کلثوم بائی ولیکا سوشل سکیورٹی اسپتال میں ایک اور بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق، 9 متاثرہ بچے جاں بحق

کراچی: کراچی کے کلثوم بائی ولیکا سوشل سکیورٹی اسپتال میں منگل کو ایک اور بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوگئی، جبکہ کراچی کی پٹھان کالونی (ولیکا) سے تعلق رکھنے والے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق علاقے میں اب تک 108 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے۔

وائٹلز نیوز کو دستیاب ایچ آئی وی ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچے کا ماضی میں کلثوم بائی ولیکا سوشل سکیورٹی اسپتال میں علاج اور داخلے کا ریکارڈ موجود ہے۔ اہل خانہ کے مطابق بچے کا ایچ آئی وی ٹیسٹ اسپتال کے اے آر ٹی سینٹر میں تین مختلف ریپڈ ڈائگناسٹک کٹس کے ذریعے مثبت آیا۔ تاہم صحت حکام نے تاحال وائرس کی منتقلی کے ذریعے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

یہ نیا کیس لاڑکانہ اور خیرپور کے بعد کراچی میں سامنے آنے والے بچوں کے ایچ آئی وی کلسٹر کے تناظر میں رپورٹ ہوا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ پٹھان کالونی میں اب تک 108 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے، جبکہ ان کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد تقریباً 200 ہو سکتی ہے۔

گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے والے متاثرہ بچوں کے والدین نے الزام عائد کیا تھا کہ آلودہ سرنجوں اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے باعث ان کے بچے وائرس سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

والدین کے مطابق متاثرہ بچوں میں سے بعض کی پیدائش کلثوم بائی ولیکا سوشل سکیورٹی اسپتال میں ہوئی تھی، جبکہ دیگر مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے اسی اسپتال میں داخل رہے تھے اور بعد ازاں ان میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ولیکا اسپتال سے منسلک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی، جبکہ مقامی رہائشیوں کے مطابق منگل کو سامنے آنے والے نئے کیس سمیت یہ تعداد بڑھ کر 108 ہو چکی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی زیادہ تر حمل، زچگی یا دودھ پلانے کے دوران ماں سے بچے کو منتقل ہوتا ہے، تاہم آلودہ خون کی منتقلی اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار، بشمول استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال، سے بھی وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق سال 2025 کے دوران صوبے میں ایچ آئی وی کے 3,859 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 1,186 بچے شامل تھے۔ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران مزید 894 نئے کیسز سامنے آئے، جن میں 329 بچے شامل ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق سندھ میں آٹو ڈس ایبل سرنجوں کے استعمال سے متعلق قانون موجود ہے، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محفوظ انجیکشن، محفوظ خون کی منتقلی، حاملہ خواتین کی ایچ آئی وی اسکریننگ اور بروقت تشخیص بچوں میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات ہیں-

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں