اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ملک میں رواں سال مون سون کی پہلی بڑی بارشوں کا سلسلہ جولائی کے پہلے ہفتے سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور بالائی سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ کہیں کہیں شدید بارش ہو سکتی ہے، جبکہ شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 30 جون کی شام یا رات ایک مغربی ہوائی سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا، جبکہ بحیرہ عرب سے آنے والی مرطوب ہوائیں پہلے ہی مشرقی اور وسطی پاکستان کو متاثر کر رہی ہیں۔ خلیج بنگال سے نمی سے بھرپور ہوائیں بھی دو جولائی سے شمالی علاقوں تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے مون سون سسٹم مزید مضبوط ہوگا۔
پیش گوئی کے مطابق آزاد کشمیر میں یکم سے 6 جولائی تک مختلف مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض علاقوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں بھی یکم سے 5 جولائی کے دوران وقفے وقفے سے بارشوں کی توقع ہے۔
پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور نارووال سمیت متعدد علاقوں میں یکم سے 6 جولائی تک بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے ملتان، بہاولپور، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ اور راجن پور سمیت دیگر علاقوں میں 3 سے 5 جولائی کے دوران بارش متوقع ہے۔
گلگت بلتستان میں یکم سے 5 جولائی تک جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے ژوب، شیرانی، کوہلو، نصیر آباد، ہرنائی، سبی اور گردونواح میں یکم سے 4 جولائی تک بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بالائی سندھ کے سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور، خیرپور اور قریبی اضلاع میں 3 اور 4 جولائی کو آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یکم سے 4 جولائی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد میں شدید بارش کے باعث شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق 2 سے 5 جولائی کے دوران کشمیر، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی جبکہ 2 سے 6 جولائی کے دوران بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے حساس علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آندھی اور گرج چمک کے دوران تیز ہوائیں بجلی کے کھمبوں، سولر پینلز، بل بورڈز اور دیگر کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، کسانوں کو موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی سرگرمیاں ترتیب دینے اور مویشیوں کی حفاظت یقینی بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ ممکنہ مون سون بارشوں کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات کریں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ رہیں۔