مصنوعی ذہانت کینسر کے علاج میں ڈاکٹر کا متبادل نہیں ہو سکتی، ماہرین

کراچی: ماہرینِ امراض کینسر کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، امیونوتھراپی اور جدید کینسر علاج جیسی نئی ٹیکنالوجیز اپنی جگہ اہم ہیں، مگر محض ان کے ذریعے پاکستان میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

 

کراچی میں ہونے والی ستائیسویں سالانہ کینسر کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ دنیا میں کینسر کے علاج میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، لیکن پاکستان میں زیادہ تر مریض ان سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مریض اکثر بہت دیر سے ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہیں اور جدید علاج صرف چند بڑے شہروں اور اسپتالوں تک محدود ہے۔

 

ماہرین کے مطابق امیونوتھراپی اور جدید مخصوص علاج ایسے طریقے ہیں جن میں مریض کے کینسر کی قسم دیکھ کر علاج کیا جاتا ہے، جس سے نتائج بہتر ہوتے ہیں۔ تاہم یہ علاج مہنگے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں، جس کے لیے سرکاری سطح پر مدد اور بہتر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

 

کانگریس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو کینسر کی جلد تشخیص، ایکسرے اور اسکینز کو بہتر سمجھنے اور علاج کے فیصلوں میں مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ اے آئی ڈاکٹر کا متبادل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ مریض کی سمجھ بوجھ اور تعاون کے بغیر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

 

ماہرین نے زور دیا کہ کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ اس کی روک تھام پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی کینسر ایسے ہیں جو طرزِ زندگی میں تبدیلی سے روکے جا سکتے ہیں، لیکن لوگوں میں آگاہی کی کمی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی اور چھالیہ کا استعمال چھوڑنا، صحت مند غذا اپنانا، روزانہ کچھ نہ کچھ ورزش کرنا اور آلودگی سے بچاؤ جیسے اقدامات سے کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

 

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ اگر چھاتی، بچہ دانی، آنتوں اور منہ کے کینسر کی بروقت اسکریننگ اور جلد تشخیص ہو جائے تو نہ صرف جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ علاج کا خرچ بھی کم ہو جاتا ہے۔

 

افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے صدر ڈاکٹر اظہر رشید نے کہا کہ کینسر کے خلاف کامیابی کے لیے صرف مشینوں اور نئی ٹیکنالوجی پر انحصار کافی نہیں، بلکہ بہتر اسپتال، تربیت یافتہ ڈاکٹرز، حکومتی پالیسی اور عوام میں شعور پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

 

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں کینسر کے مسئلے کو واقعی کم کرنا ہے تو جدید علاج کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیماری سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور علاج کے بارے میں آسان اور واضح معلومات دینا ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے