اسلام آباد: پاکستان میں خسرہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں سال 2025 کے دوران کم از کم 143 بچے اس قابلِ بچاؤ بیماری کے باعث جان سے گئے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے آغاز میں سامنے آنے والا نیا اضافہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
خسرہ دنیا کی سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریوں میں شامل ہے جو کھانسی، چھینک اور ہوا کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری بچوں کے مدافعتی نظام کو کئی ہفتوں تک کمزور کر دیتی ہے، جس کے باعث نمونیا، شدید اسہال، اندھا پن اور دماغی سوزش جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ غذائی قلت کا شکار بچوں میں خسرہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، جو پاکستان میں بلند شرحِ اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور ملکی اداروں کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے پہلے ہفتے میں ملک بھر سے خسرہ اور روبیلا کے 740 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 276 کی خسرہ کی لیبارٹری تصدیق ہوئی۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال اسی ہفتے کے دوران 491 مشتبہ اور 239 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خسرہ کی منتقلی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ 2025 میں خسرہ کی ترسیل کا سلسلہ مکمل طور پر توڑا نہیں جا سکا۔
گزشتہ سال ملک میں خسرہ کے پچاس ہزار سے زائد مشتبہ کیسز، پندرہ ہزار سات سو سے زیادہ تصدیق شدہ مریض اور 143 اموات ریکارڈ کی گئیں، جن میں اکثریت پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔
ڈاکٹروں کے مطابق خسرہ سے ہونے والی بہت سی اموات بڑے اسپتالوں تک پہنچ ہی نہیں پاتیں اور خاص طور پر کچی آبادیوں اور مضافاتی علاقوں میں یہ اموات کم رپورٹ ہوتی ہیں، جہاں خاندان دیر سے علاج کرواتے ہیں یا غیر مستند معالجین پر انحصار کرتے ہیں۔
خسرہ دنیا کی سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریوں میں شامل ہے جو کھانسی، چھینک اور ہوا کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری بچوں کے مدافعتی نظام کو کئی ہفتوں تک کمزور کر دیتی ہے، جس کے باعث نمونیا، شدید اسہال، اندھا پن اور دماغی سوزش جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ غذائی قلت کا شکار بچوں میں خسرہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، جو پاکستان میں بلند شرحِ اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔
کراچی خسرہ کی وبا کے بڑے مراکز میں شامل ہے۔ سندھ میں 2025 کے دوران خسرہ کے گیارہ ہزار سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں چار ہزار دو سو سے زیادہ کی تصدیق ہوئی اور 65 بچوں کی اموات ہوئیں، جو تمام صوبوں میں سب سے زیادہ ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال، سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی خسرہ کے مریضوں کی مسلسل آمد کا سامنا ہے، جن میں سے اکثر بچے شدید حالت میں اور تاخیر سے اسپتال پہنچتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خسرہ اب صرف غریب یا دور دراز علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ اسلام آباد میں خسرہ کے ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح ملک میں بلند ترین سطح پر رہی، جبکہ پشاور کے اسپتالوں نے بھی پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بار بار کیسز کے جھرمٹ رپورٹ کیے۔
خیبر پختونخوا میں 2025 کے دوران خسرہ کے چودہ ہزار چھ سو سے زائد مشتبہ اور پانچ ہزار سات سو سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے، جبکہ پنجاب میں ملک بھر میں سب سے زیادہ مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
2026 کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق خسرہ کے 52 فیصد مریض ایسے بچے تھے جنہیں کوئی ویکسین نہیں لگی تھی، جبکہ 93 فیصد کیسز پانچ سال سے کم عمر بچوں میں رپورٹ ہوئے، جو معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
تشویشناک طور پر، خسرہ کے 55 تصدیق شدہ کیسز ایسے بچوں میں رپورٹ ہوئے جو نو ماہ سے کم عمر تھے اور ابھی انہیں ویکسین لگنا شروع ہی نہیں ہوتی، جس سے کمیونٹی میں بیماری کے شدید پھیلاؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔
غیر ویکسین شدہ بچوں میں 30 فیصد نو ماہ سے کم عمر جبکہ 22 فیصد ایسے بچے تھے جو نو ماہ سے بڑے ہونے کے باوجود ویکسین سے محروم رہے، جو پروگرام کی کمزوریوں اور والدین کی غفلت دونوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
خسرہ کے علاوہ دیگر ویکسین سے بچاؤ کی بیماریوں کی موجودگی بھی برقرار ہے۔ 2026 کے پہلے ہفتے میں خیبر پختونخوا سے ڈفتھیریا کے تین نئے کیسز اور نوزائیدہ بچوں میں تشنج کے دو کیسز رپورٹ ہوئے، جو ناقص حفاظتی ٹیکہ کاری اور غیر محفوظ زچگی کے طریقوں سے جڑے خطرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس ہفتے کالی کھانسی کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم حکام کے مطابق ہر سال اس کے چھٹپٹ کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔
اسی دوران سندھ سے ویکسین لگنے کے بعد ایک منفی اثر کی رپورٹ بھی سامنے آئی، جسے ماہرین شفاف نگرانی اور عوامی اعتماد کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خسرہ، ڈفتھیریا اور نوزائیدہ تشنج کا بیک وقت برقرار رہنا توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ کاری میں بنیادی کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں رسائی، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اور ویکسین نہ لگوانے کی وجوہات کی دستاویز سازی کے حوالے سے۔
ماہرین اطفال اور پبلک ہیلتھ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 2026 کے بڑھتے ہوئے کیسز کو ہنگامی وارننگ سمجھا جائے، معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو مضبوط کیا جائے اور ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کا براہ راست سامنا کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین سے انکار یا تاخیر نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پوری کمیونٹی کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
کراچی کے ایک سینئر ماہرِ اطفال نے کہا کہ خسرہ سے ہر موت قابلِ روک تھام ہے، لیکن جب 2025 اور اب 2026 میں بھی بچے خسرہ سے جان گنوا رہے ہیں تو یہ صحت کے نظام اور والدین دونوں کی ناکامی کی علامت ہے-
