نیشنل رجسٹریشن امتحان (NRE) اسٹیپ 2 کلینیکل اسکلز امتحان (CSE) 24 تا 25 جنوری 2026 (ہفتہ–اتوار) اور 31 جنوری تا 1 فروری 2026 (ہفتہ–اتوار) کو منعقد کیا جائے گا۔
اسلام آباد، 23 جنوری 2026: کونسل ایکٹ 2022 کی شق 18 کے تحت نیشنل رجسٹریشن امتحان (NRE) اسٹیپ 2 کلینیکل اسکلز امتحان (CSE) 24 تا 25 جنوری 2026 (ہفتہ–اتوار) اور 31 جنوری تا 1 فروری 2026 (ہفتہ–اتوار) کو منعقد کیا جا رہا ہے۔
یہ امتحان نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کے زیرِ اہتمام ہوگا۔ تمام اہل امیدواروں کو ایڈمٹ کارڈ جاری کر دیے گئے ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ امتحانی مرکز پر بروقت پہنچیں۔ قانون کے مطابق یہ امتحان سال میں دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے اور یہ صرف ان امیدواروں کے لیے ہے جنہوں نے NRE اسٹیپ 1 کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہو۔ ملک بھر سے مجموعی طور پر 1849 گریجویٹس نے NRE-II امتحان کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے۔
یہ امتحان غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کی کلینیکل مہارتوں اور صلاحیتوں کا جائزہ لیتا ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ عملی طب کے لیے درکار معیارات پر پورا اترتے ہیں۔ یہ امتحان پاکستانی شہریت رکھنے والے غیر ملکی گریجویٹس کے لیے کونسل میں رجسٹریشن حاصل کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ NRE اسٹیپ 2 CSE میں عملی جانچ شامل ہوتی ہے، جس میں مریضوں کے ساتھ تعامل، کلینیکل طریقۂ کار اور فیصلہ سازی کے عمل شامل ہیں۔
یہ امتحان ایک آبجیکٹو اسٹرکچرڈ کلینیکل ایگزامینیشن (OSCE) سے مشابہ ہے، جس میں امیدواروں کو تھیوری اور CSE دونوں حصے الگ الگ پاس کرنا ہوتے ہیں۔ “NRE اسٹیپ 2 امتحان اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صرف اہل اور باصلاحیت پیشہ ور افراد ہی میڈیکل اور ڈینٹل شعبوں میں داخل ہوں، جس سے پاکستان میں میڈیکل تعلیم اور عملی خدمات کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔” امتحان کا شفاف اور منصفانہ ڈیزائن تعصبات کو کم کرتا ہے اور تمام امیدواروں کے لیے مساوی مواقع کو یقینی بناتا ہے۔ یہ مسلسل سیکھنے اور پیشہ ورانہ ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جس سے صحت کی سہولیات میں بہتری اور معیارِ کارکردگی کو فروغ ملتا ہے۔
ساڑھے تین گھنٹے پر محیط اس CSE میں مختلف شعبہ جات کے 20 اسٹیشنز شامل ہںیں۔ تھیوری اور CSE دونوں حصوں میں کامیابی کے لیے کم از کم 60 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔ “یہ سخت جانچ پڑتال کا عمل طبی پیشوں پر عوامی اعتماد کو برقرار رکھتا ہے اور صحت کی خدمات کے معیار کو یقینی بناتا ہے۔
” خواہشمند میڈیکل طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف PM&DC کی جانب سے تسلیم شدہ بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں داخلہ لیں، اور ان اداروں کو معیاری تعلیم فراہم کرنی چاہیے تاکہ جب یہ گریجویٹس واپس پاکستان آئیں تو وہ لائسنسنگ امتحان پاس کر سکیں، قومی صحت کے نظام میں شامل ہوں اور اپنے ملک کی خدمت کر سکیں
