کراچی: پاکستان میں انتہائی نایاب سمندری عقاب وائٹ ٹیلڈ سی ایگل ایک بار پھر ریکارڈ کرلیا گیا، نایاب پرندہ سندھ میں زخمی حالت میں ملا جسے ریسکیو کرکے علاج اور تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔
وائٹ ٹیلڈ سی ایگل کا سائنسی نام Haliaeetus albicilla ہے، یہ یورپ اور ایشیا کے شمالی علاقوں میں پایا جانے والا ایک بڑا شکاری پرندہ ہے۔ پاکستان میں اس کا شمار انتہائی نایاب پرندوں میں ہوتا ہے اور اس کے ملک میں بہت کم مستند ریکارڈ موجود ہیں۔
وائلڈ لائف ماہر اور کنزراپٹر فاؤنڈیشن کے صدر ایم ہارون مشتاق کے مطابق سندھ میں وائٹ ٹیلڈ سی ایگل کے کم عمر پرندے کا ریسکیو ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نسل کے پرندے عام طور پر پاکستان میں نظر نہیں آتے اور ماضی میں بھی اس کے بہت کم ریکارڈ سامنے آئے ہیں۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں وائٹ ٹیلڈ سی ایگل کی موجودگی کا ایک اہم ثبوت 1870 میں سامنے آیا تھا، جب موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقے ایگرور ویلی میں اس نسل کا ایک نمونہ حاصل کیا گیا تھا۔ بعد میں پرندوں کے ماہرین نے بھی پاکستان میں اس نسل کی موجودگی کو انتہائی نایاب قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق سندھ میں اس نایاب پرندے کا ملنا اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں پاکستان میں اس کے زیادہ تر ریکارڈ شمالی علاقوں اور دریائے سندھ کے اطراف سے سامنے آئے تھے۔
ایم ہارون مشتاق کے مطابق ممکنہ طور پر موسم کی شدت یا ہجرت کے دوران راستہ بدلنے کی وجہ سے یہ پرندہ وسطی ایشیا سے غیر معمولی طور پر جنوب کی جانب آگیا۔ تاہم پرندے کے پاکستان پہنچنے کی درست وجہ جاننے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔
وائٹ ٹیلڈ سی ایگل ایک بڑا شکاری پرندہ ہے۔ بالغ پرندے کی دم سفید، چونچ زرد اور جسم کافی بڑا ہوتا ہے، جبکہ کم عمر پرندے کا رنگ نسبتاً گہرا ہوتا ہے۔ یہ پرندہ دریاؤں، جھیلوں اور دیگر آبی علاقوں کے قریب رہنا پسند کرتا ہے اور مچھلی سمیت مختلف جانوروں کا شکار کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس نایاب پرندے کے ہر مستند ریکارڈ کی خاص اہمیت ہے کیونکہ اس سے پرندوں کی ہجرت کے راستوں اور پاکستان کے قدرتی ماحول کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
کنزراپٹر فاؤنڈیشن کے صدر ایم ہارون مشتاق نے سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو بھی اس ریسکیو سے متعلق رپورٹ بھیجی ہے۔ ان کے مطابق نایاب پرندے کا بروقت ریسکیو اور علاج محکمہ جنگلی حیات اور رضاکاروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نایاب اور ہجرتی پرندوں کے تحفظ کے لیے ان کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانا اور ایسے پرندوں کی موجودگی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔ سندھ میں وائٹ ٹیلڈ سی ایگل کا یہ ریکارڈ پاکستان کی جنگلی حیات کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔