بظاہر صحت مند پاکستانیوں میں 45 فیصد ہائی بلڈ پریشر، 35 فیصد ذیابیطس کا شکار: تحقیق


کراچی: ملک گیر تحقیق کے دوران بظاہر صحت مند سمجھے جانے والے تقریباً دو ہزار پاکستانیوں کی اسکریننگ میں 45 فیصد کا بلڈ پریشر بلند، تقریباً 35 فیصد میں ذیابیطس، 70 فیصد میں کولیسٹرول کی زیادتی اور 80 فیصد تک افراد میں موٹاپا پایا گیا۔

پاک صحت اسٹڈی کے یہ ابتدائی نتائج عالمی یوم قلب کی مناسبت سے جامعہ کراچی کی فیکلٹی آف فارمیسی اینڈ فارماسیوٹیکل سائنسز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے۔ سیمینار کا انعقاد پاکستان کارڈیک سوسائٹی اور فارمیوو کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

تبا ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بشیر حنیف نے بتایا کہ تحقیق میں ملک بھر سے 30 سے 65 سال کی عمر کے تقریباً دو ہزار افراد کو صوبوں کی آبادی کے تناسب سے شامل کیا گیا۔

تحقیق میں شامل تمام افراد خود کو صحت مند سمجھتے تھے، تاہم ان کی طبی تاریخ، جسمانی معائنے، خون کے ٹیسٹ، سی ٹی انجیوگرافی اور الٹراساؤنڈ سمیت مختلف طبی جائزوں میں دل کے امراض کے کئی اہم خطرات سامنے آئے۔

ڈاکٹر بشیر حنیف نے کہا کہ ابتدائی نتائج انتہائی تشویشناک ہیں۔ تحقیق میں شامل تقریباً 45 فیصد افراد کا بلڈ پریشر بلند، 35 فیصد میں ذیابیطس اور تقریباً 70 فیصد میں کولیسٹرول کی سطح زیادہ پائی گئی، جبکہ 72 سے 80 فیصد افراد موٹاپے کا شکار تھے۔

انہوں نے کہا کہ موٹاپے کا ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کولیسٹرول میں اضافے سے گہرا تعلق ہے اور یہ عوامل آگے چل کر ہارٹ اٹیک، فالج اور دل کے دیگر امراض کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

ڈاکٹر بشیر حنیف کے مطابق جنوبی ایشیائی افراد میں دل کے امراض نسبتاً کم عمر میں سامنے آتے ہیں اور اب 30 سال سے کم عمر افراد میں بھی ہارٹ اٹیک کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاک صحت اسٹڈی کے ذریعے نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد میں دل کی شریانوں کی قبل از وقت تنگی اور اس سے وابستہ خطرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ پاکستان میں دل کے امراض کم عمری میں کیوں ظاہر ہو رہے ہیں۔

تحقیق میں شامل تمام افراد کے خون کے نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں جن کا جینیاتی تجزیہ بھی کیا جائے گا۔ خوراک، ماحول اور طرز زندگی سے متعلق عوامل کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ دل کے قبل از وقت امراض کی وجوہات معلوم کی جاسکیں۔

تحقیق میں شامل افراد کی اگلے 10 سال تک نگرانی کی جائے گی۔ مختلف مراحل پر ان کی طبی تاریخ، جسمانی معائنے اور خون کے ٹیسٹ دوبارہ کیے جائیں گے، جبکہ پانچ اور 10 سال بعد سی ٹی انجیوگرافی بھی دہرائی جائے گی۔

ڈاکٹر بشیر حنیف نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے مستقبل میں پاکستان کے لیے ایسا نظام تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے جس کے ذریعے علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی دل کے امراض کے خطرے سے دوچار افراد کی نشاندہی کی جاسکے۔

انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ بلڈ پریشر صرف سر درد، ذہنی دباؤ یا طبیعت خراب ہونے کے وقت چیک نہ کریں۔ بلڈ پریشر کو سکون کی حالت میں چیک کرنا زیادہ درست اور مفید ہوتا ہے۔

این آئی سی وی ڈی کی ڈائریکٹر کارڈیک امیجنگ پروفیسر ڈاکٹر صبا بھٹی نے بتایا کہ ملک بھر کے اینٹی نیٹل کلینکس میں ایک قومی رجسٹری کے تحت بظاہر صحت مند حاملہ خواتین کی ایکو کارڈیوگرافی کے ذریعے اسکریننگ بھی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹری سے متعلق دو تحقیقی رپورٹس میں سامنے آیا کہ اسکریننگ کرانے والی ہر 100 میں سے تقریباً چار خواتین کو دل یا والو کا ایسا مرض لاحق تھا جس کی پہلے تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

ان خواتین میں پیدائشی دل کے امراض، دل کے والوز کی خرابی اور دل کے بائیں حصے کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت میں کمی جیسے مسائل پائے گئے۔

تشخیص کے بعد ایسی خواتین کو خصوصی کارڈیو آبسٹیٹرکس کلینکس بھیجا جاتا ہے جہاں حمل اور دل کے مرض کی بیک وقت نگرانی اور علاج کیا جاتا ہے۔

پروفیسر صبا بھٹی نے کہا کہ دل کے مرض سے لاعلمی میں حمل جاری رکھنے سے ماں اور بچے دونوں کے لیے سنگین خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دل کے مسائل کا شکار خواتین میں ماں کی صحت، قبل از وقت پیدائش اور بچے کے پیدائشی وزن پر بھی اثرات دیکھے گئے ہیں۔

پروفیسر صبا بھٹی کے مطابق بچپن میں گلے کے بعض بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کا علاج نہ ہونے سے کئی سال بعد رومیٹک ہارٹ ڈیزیز پیدا ہوسکتی ہے اور دل کے والوز متاثر ہوسکتے ہیں۔ غربت، گنجان آبادی اور علاج کی سہولیات تک محدود رسائی اس خطرے میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قریبی رشتوں میں شادیوں کی شرح زیادہ ہونے کے باعث پیدائشی دل کے نقائص بھی اہم مسئلہ ہیں۔ ان میں دل میں سوراخ اور دل کی ساخت سے متعلق مختلف پیچیدہ بیماریاں شامل ہیں۔

پروفیسر صبا بھٹی نے بتایا کہ بعض خواتین میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص حمل سے پہلے نہیں ہو پاتی۔ حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر کی شدید صورتیں پری ایکلیمپسیا یا ایکلیمپسیا میں تبدیل ہوسکتی ہیں، جن کا فوری علاج ماں اور بچے کی جان بچانے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ گھر کے دیگر افراد کی دیکھ بھال کے دوران اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں۔ نوجوانوں کو صحت مند خوراک، باقاعدہ ورزش، پیدل چلنے اور لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔

پروفیسر صبا بھٹی نے نوجوانوں، خصوصاً لڑکیوں میں ویپنگ کے بڑھتے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ رات دیر تک جاگنا، رات گئے کھانا اور مناسب نیند نہ لینا جسم کے نظام، تعلیم اور مجموعی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر فواد فاروق نے کہا کہ جسم کی بحالی کے لیے روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی مناسب نیند ضروری ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر صحت مند خوراک سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول اور موٹاپے کی بروقت تشخیص اور علاج سے دل کے امراض کا خطرہ نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔

فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد حارث شعیب نے کہا کہ ’’انویزیبل نیشن‘‘ مہم نوجوانوں میں دل کے امراض کے چھپے ہوئے خطرات کی شناخت اور بیماری پیدا ہونے سے پہلے حفاظتی اقدامات کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

فارمیوو کے سینیئر جنرل مینیجر سہیل احمد صدیقی نے بتایا کہ مہم کے تحت کراچی سے سوات تک اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آگاہی اور اسکریننگ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہم کے ذریعے ملک بھر میں 10 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات تک صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمی اور موٹاپے، امراض قلب اور فیٹی لیور سے بچاؤ کا پیغام پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں