کراچی: عالمی یومِ انسدادِ ریبیز کے موقع پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں سگ گزیدگی اور ریبیز سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار سے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ اور سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی نے خطاب کیا۔
سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی نے کہا کہ ریبیز سے پاک سندھ بنانا حکومت اور محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہے۔ سندھ میں ریبیز کے خلاف آگاہی مہم شروع کردی گئی ہے اور عوام کو ریبیز کے مہلک اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے بھرپور مہم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کتے کے کاٹنے کے بعد بروقت طبی امداد نہ لینا ریبیز کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے، اس لیے متاثرہ شخص کو فوری اور مناسب علاج فراہم کرنا ضروری ہے۔ صوبے بھر میں ریبیز سے بچاؤ اور بروقت علاج کی سہولیات بہتر بنائی جا رہی ہیں جبکہ اینٹی ریبیز ویکسینیشن کے مخصوص مراکز کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
طاہر حسین سانگی کا کہنا تھا کہ ریبیز کے مریضوں کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کرنا محکمہ صحت کی ترجیح ہے۔ صوبے میں ریبیز کے علاج کے لیے ریفرنس مراکز اور تربیت یافتہ طبی عملہ موجود ہے۔ ڈاکٹرز اور میڈیکل طلبہ کو بھی ریبیز سے متعلق عوامی آگاہی میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت سگ گزیدگی کے بڑھتے کیسز کی روک تھام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ آوارہ کتوں کی تعداد پر قابو پانے کے لیے کتوں کی نس بندی کا باقاعدہ پروگرام شروع کیا گیا ہے، جسے مزید مؤثر اور منظم بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سگ گزیدگی کے مسئلے پر متعلقہ حکام کے ساتھ اہم اجلاس بھی ہوا ہے، حکومت محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ سگ گزیدگی کی روک تھام کے لیے صرف علاج ہی نہیں بلکہ اس کے بنیادی سبب پر بھی کام کرنا ضروری ہے۔
صوبائی وزیر نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات سگ گزیدگی کے مراکز پر اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سگ گزیدگی کے مریضوں کو ویکسین کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ سگ گزیدگی کی صورت میں سب سے اہم اور فوری اقدام زخم کو دھونا ہے۔ کتے کے کاٹنے کے بعد زخم کو صاف بہتے پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے، کیونکہ زخم دھونے میں تاخیر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ زخم دھونے کے ساتھ متاثرہ شخص کو فوری طور پر طبی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے۔
ناصر حسین شاہ نے عوام پر زور دیا کہ کتے کے کاٹنے کو معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں اور فوری طبی امداد حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی، ویکسینیشن، بروقت علاج اور عوامی آگاہی سگ گزیدگی اور ریبیز کی روک تھام کے اہم اقدامات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریبیز سے بچاؤ کے لیے عوام، طبی ماہرین اور متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا جبکہ عوامی آگاہی کا پیغام صوبے کے ہر فرد تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔