اسلام آباد: وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مالی سال 2026-27 کے دوران صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 3.52 کھرب روپے مختص کیے ہیں، جو وفاقی حکومت کے تین کھرب روپے کے دفاعی بجٹ سے 523 ارب روپے زیادہ ہیں۔
سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں صحت کے لیے تقریباً 1.37 کھرب روپے جبکہ تعلیم کے لیے 2.16 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس طرح مجموعی سماجی شعبے پر ہونے والا خرچ دفاعی اخراجات سے زیادہ بنتا ہے، اگرچہ وفاقی بجٹ میں دفاع اب بھی قرضوں کی ادائیگی کے بعد سب سے بڑی واحد مد ہے۔
پنجاب، جو ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، نے صحت کے لیے 500 ارب روپے اور تعلیم کے لیے 750 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس طرح دونوں شعبوں کے لیے مجموعی رقم 1.25 کھرب روپے بنتی ہے، جو قومی سطح پر صحت اور تعلیم کے مجموعی بجٹ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ہے۔
سندھ نے صحت کے لیے 381.834 ارب روپے اور تعلیم کے لیے 635.085 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس سے دونوں شعبوں کا مجموعی بجٹ تقریباً 1.017 کھرب روپے بنتا ہے۔ اس رقم میں بڑے سرکاری اسپتالوں، ضلعی صحت کی خدمات، بیماریوں کی روک تھام کے پروگراموں، اسکولوں، کالجوں، جامعات اور ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا نے صحت کے لیے 334 ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے لیے 50 ارب روپے بھی شامل ہیں، جبکہ تعلیم کے لیے 468 ارب روپے سے زیادہ رکھے گئے ہیں۔ اس طرح صوبے میں صحت اور تعلیم پر مجموعی خرچ تقریباً 802 ارب روپے بنتا ہے۔
بلوچستان نے نسبتاً محدود مالی وسائل کے باوجود صحت کے لیے 96.56 ارب روپے اور تعلیم کے لیے 186.33 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس سے دونوں شعبوں کے لیے مجموعی رقم 282.89 ارب روپے بنتی ہے۔ صوبے میں تعلیم پر خرچ صحت کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔
وفاقی حکومت نے 2026-27 کے بجٹ میں صحت کے لیے 53.3 ارب روپے اور تعلیم کے لیے 117.75 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس سے وفاقی سطح پر دونوں شعبوں کے لیے مجموعی رقم 171.05 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ رقوم بنیادی طور پر قومی اداروں، اعلیٰ تعلیم، خصوصی پروگراموں اور ریگولیٹری امور کے لیے رکھی گئی ہیں۔
ملک بھر میں صحت کے لیے مجموعی مختص رقم تقریباً 1.366 کھرب روپے جبکہ تعلیم کے لیے 2.157 کھرب روپے بنتی ہے۔ اس طرح مجموعی سماجی شعبے کے اخراجات میں تعلیم کا حصہ تقریباً 61 فیصد اور صحت کا حصہ 39 فیصد ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم زیادہ تر صوبائی ذمہ داری بن چکے ہیں اور ان دونوں شعبوں پر ہونے والے مجموعی اخراجات کا 95 فیصد سے زیادہ حصہ صوبے برداشت کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت کا کردار زیادہ تر پالیسی سازی، ریگولیشن اور خصوصی اداروں تک محدود ہے۔
اس کے مقابلے میں وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے دفاعی بجٹ تین کھرب روپے مقرر کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی اخراجات کو یکجا کیا جائے تو صحت اور تعلیم کے لیے مختص رقم دفاعی بجٹ سے تقریباً 523 ارب روپے زیادہ بنتی ہے۔