میڈیکل کی تعلیم میں عدم دلچسپی، ایم بی بی ایس اوربی ڈی ایس کی سینکڑوں نشستیں خالی

 

اسلام آباد: ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے لیے 45 دن کی اضافی مہلت دینے اور ایم بی بی ایس و بی ڈی ایس پروگراموں کے لیے اہلیت کا معیار کم کرنے کے باوجود تعلیمی سال 2025-26 کے دوران 743 نشستیں خالی رہ گئیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کے 187 سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں دستیاب 22 ہزار 300 سے زائد نشستوں میں سے 743 نشستیں پُر نہ ہو سکیں، حالانکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ایم بی بی ایس کے لیے کم از کم مطلوبہ نمبرز 55 فیصد سے کم کرکے 52 فیصد اور بی ڈی ایس کے لیے 50 فیصد سے کم کرکے 47 فیصد کر دیے تھے۔

دستاویزات کے مطابق پنجاب میں 381، سندھ میں 295، اسلام آباد میں 50 اور خیبر پختونخوا میں 17 نشستیں خالی رہیں۔ مجموعی طور پر خالی رہنے والی نشستوں میں 608 بی ڈی ایس جبکہ 135 ایم بی بی ایس کی نشستیں شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈینٹل تعلیم کی جانب طلبہ کی رغبت میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ میڈیکل تعلیم میں دلچسپی بھی متاثر ہونا شروع ہو گئی ہے۔

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں سال میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے لیے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد طلبہ نے رجسٹریشن کرائی تھی جن میں سے تقریباً 90 ہزار امیدوار کامیاب قرار پائے تھے۔

ان حالات میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا پاکستانی طلبہ میڈیکل تعلیم میں دلچسپی کھو رہے ہیں یا پھر نجی میڈیکل تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت، معیار سے متعلق خدشات اور مستقبل کے غیر یقینی امکانات انہیں اس شعبے سے دور کر رہے ہیں۔

طبی تعلیم کے ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں نشستوں کا خالی رہ جانا کئی عوامل کا نتیجہ ہے جن میں نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیسیں، تعلیمی معیار سے متعلق خدشات، پوسٹ گریجویٹ تربیت اور روزگار کے محدود مواقع، بیرون ملک تعلیم کے متبادل راستے اور یہ بڑھتا ہوا تاثر شامل ہے کہ میڈیکل ڈگری اب لازمی طور پر معاشی استحکام یا بہتر مستقبل کی ضمانت نہیں رہی۔

ذرائع کے مطابق بعض نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں نے طلبہ کو راغب کرنے کے لیے فیسوں میں رعایت اور مختلف مراعات کی پیشکش بھی کی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تمام نشستیں پُر نہ کر سکے۔

اس صورتحال نے ملک میں نئے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے قیام اور نشستوں میں مسلسل اضافے کے حوالے سے جاری بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پی ایم ڈی سی خود حکومت کو خبردار کر چکا ہے کہ ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی بے قابو توسیع طبی تعلیم کے معیار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

وزارت قومی صحت کو ارسال کردہ ایک مراسلے میں پی ایم ڈی سی نے سفارش کی تھی کہ نئے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے قیام اور نشستوں میں اضافے پر تین سے پانچ سال کے لیے پابندی عائد کی جائے۔ کونسل کے مطابق ملک کے 187 میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے کے لیے 26 ہزار 18 اساتذہ درکار ہیں جبکہ دستیاب فیکلٹی کی تعداد صرف 22 ہزار 146 ہے، یوں ملک کو 3 ہزار 872 اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے۔

پی ایم ڈی سی نے خبردار کیا کہ اساتذہ کی یہ کمی طبی تعلیم، کلینیکل تربیت، تحقیق، تعلیمی معیار اور بالآخر مریضوں کی دیکھ بھال پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ کونسل کے مطابق مزید کالجوں کے قیام یا نشستوں میں اضافے سے فیکلٹی کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا اور طبی تعلیم کا معیار متاثر ہوگا۔

فیکلٹی کی قلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ پی ایم ڈی سی نے حال ہی میں ریٹائرڈ اساتذہ کے لیے عمر کی بالائی حد میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں تدریسی خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی تاکہ کالج کم از کم مطلوبہ فیکلٹی کی شرط پوری کر سکیں۔

طبی تعلیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت مزید میڈیکل کالجوں یا اضافی نشستوں کی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ اداروں کے معیار، فیکلٹی، تدریسی اسپتالوں اور کلینیکل تربیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج زیادہ ڈاکٹر پیدا کرنا نہیں بلکہ بہتر تربیت یافتہ، باصلاحیت، اخلاقی اور ہمدرد ڈاکٹر اور ڈینٹسٹ تیار کرنا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اساتذہ، تدریسی اسپتالوں اور تربیتی سہولیات میں خاطر خواہ اضافہ کیے بغیر میڈیکل کالجوں کی تعداد بڑھائی جاتی رہی تو ایسے گریجویٹس سامنے آ سکتے ہیں جنہیں مناسب کلینیکل تجربہ اور عملی مہارتیں حاصل نہیں ہوں گی، جس کے اثرات مستقبل میں مریضوں کی حفاظت اور صحت کے نظام کے معیار پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ خدشات اس لیے بھی اہم ہیں کہ ملک کے اندر سینکڑوں نشستیں خالی رہنے کے باوجود تقریباً 25 سے 30 ہزار پاکستانی طلبہ چین، کرغزستان، قازقستان، روس اور مشرقی یورپ کے دیگر ممالک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف نشستوں کی دستیابی کا نہیں بلکہ اخراجات، معیار، تربیت اور مستقبل کے امکانات سے بھی جڑا ہوا ہے۔

طبی تعلیم کے ایک سینئر ماہر کے بقول، "پاکستان کو مزید میڈیکل کالجوں کی نہیں بلکہ بہتر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے”، کیونکہ ملک کے صحت کے نظام کا مستقبل صرف تعداد بڑھانے سے نہیں بلکہ معیاری، قابل اور جدید طبی تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے سے وابستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پالیسی سازوں نے بروقت توجہ نہ دی تو میڈیکل تعلیم کے شعبے کو درپیش موجودہ مسائل مزید گہرے ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف طلبہ بلکہ پورے صحت کے نظام پر مرتب ہوں گے۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت، ریگولیٹری اداروں اور تعلیمی اداروں کو مل کر ایسی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی جس سے میڈیکل تعلیم کو زیادہ قابل رسائی، معیاری اور طلبہ کے لیے پرکشش بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق فیسوں کے ڈھانچے کا جائزہ لینے، تربیتی مواقع بڑھانے، فیکلٹی کی کمی دور کرنے اور گریجویٹس کے لیے بہتر کیریئر راستے فراہم کرنے سے اس شعبے میں دوبارہ دلچسپی پیدا کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ نوجوانوں کی ترجیحات بھی تبدیل ہو رہی ہیں اور اب وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کاروبار اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں کی جانب زیادہ راغب ہو رہے ہیں جہاں نسبتاً کم مدت میں بہتر مالی مواقع دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیکل تعلیم، جو طویل، مہنگی اور محنت طلب سمجھی جاتی ہے، پہلے کی نسبت کم پرکشش بنتی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ صحت کا شعبہ کسی بھی ملک کی بنیادی ضرورت ہے اور پاکستان کو مستقبل میں بھی بڑی تعداد میں قابل اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹوں کی ضرورت رہے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ طبی تعلیم کے نظام کو مضبوط، متوازن اور معیاری بنایا جائے تاکہ نہ صرف خالی نشستوں کا مسئلہ حل ہو بلکہ ملک کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کی طبی افرادی قوت بھی میسر آ سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں