برطانیہ میں پاکستانی ڈاکٹروں سے “بیگار لیے جانے کے انکشاف” کے بعد متنازع تربیتی پروگرام ختم

اسلام آباد: برطانیہ نے پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے متعارف کرایا گیا ایک متنازع تربیتی پروگرام مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کے ساتھ آٹھ سالہ معاہدہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹروں کو برطانیہ لے جایا گیا، جہاں انہیں برطانوی اسپتالوں میں سستی لیبر اور بیگار جیسی ورکنگ کنڈیشنز کا سامنا کرنا پڑا۔

معروف برطانوی طبی جریدے برٹش میڈیکل جرنل کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والے اس پروگرام کے ذریعے 2017 سے 2025 کے دوران پاکستان سے 700 سے زائد ڈاکٹروں کو ’’انٹرنیشنل ٹریننگ فیلو‘‘ کے طور پر برطانیہ بھرتی کیا گیا۔ اس منصوبے کو ’’سیکھو اور واپس لوٹو‘‘ کے تصور کے تحت پیش کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر یہ پروگرام برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کا ذریعہ بن گیا۔
یہی ڈاکٹر چند برسوں بعد برطانیہ کے صحت کے نظام کا مستقل حصہ بن گئے، جبکہ پاکستان شدید طبی افرادی قلت کا شکار ہوتا چلا گیا۔

بعد ازاں اس پروگرام میں سنگین مالی، قانونی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جس کے بعد برمنگھم ٹرسٹ نے ایک آزاد آڈٹ کروایا۔ یہ حقائق برطانوی میڈیکل جرنل کی تحقیقاتی رپورٹ کے ذریعے منظر عام پر آئے، جس میں اس پروگرام کو پاکستانی ڈاکٹروں کے استحصال کی ایک واضح مثال قرار دیا گیا۔

آزاد آڈٹ، جو کے پی ایم جی نے کیا، میں گورننس کی 17 بڑی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں تنخواہوں کے غیر واضح انتظامات، برطانوی لیبر قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیاں، انکم ٹیکس کی عدم کٹوتی، نامکمل سیکیورٹی کلیئرنس اور تربیت کے نام پر ادا کی گئی خطیر رقوم کی نگرانی میں ناکامی شامل تھی۔

آٹھ برسوں کے دوران برمنگھم ٹرسٹ نے برطانیہ میں قائم ایک نجی کمپنی کو تقریباً 40.5 ملین پاؤنڈ، یعنی 14.5 ارب روپے سے زائد ادا کیے، تاہم نہ کوئی باضابطہ معاہدہ موجود تھا اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کی جا سکی کہ اصل میں کتنی رقم پاکستانی ڈاکٹروں تک پہنچی۔ ہر ڈاکٹر کے لیے ماہانہ 3,960 پاؤنڈ مقرر تھے، مگر آڈٹ میں تصدیق کی گئی کہ ادائیگیوں کی تفصیلات کبھی شفاف انداز میں سامنے نہیں آئیں۔

آڈٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ برطانیہ کے اسپتالوں میں فل ٹائم کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں کو ملازم کے بجائے طالب علم ظاہر کیا گیا، جس کے باعث انہیں بیماری کی چھٹی، زچگی کی چھٹی اور ملازمت کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق حاصل نہیں تھے۔ رپورٹ میں ایک ایسے واقعے کا بھی ذکر ہے جس میں حاملہ ہونے پر ایک خاتون ڈاکٹر کی ملازمت ختم کر دی گئی۔

پاکستان کے لیے سب سے تشویشناک پہلو یہ تھا کہ ’’سیکھو اور واپس لوٹو‘‘ کا وعدہ عملاً ناکام ہو گیا۔ پاکستان عالمی ادارہ صحت کی ہیلتھ ورک فورس ریڈ لسٹ میں شامل ہے، اس کے باوجود آڈٹ میں سامنے آیا کہ حالیہ برسوں میں پروگرام مکمل کرنے والے 68 فیصد ڈاکٹر مستقل طور پر برطانیہ میں کام کر رہے ہیں۔

اس پروگرام میں سی پی ایس پی کا کردار مرکزی رہا، جس کے ذریعے بڑی تعداد میں پاکستانی ڈاکٹروں کو برمنگھم بھیجا گیا۔ آڈٹ کے بعد این ایچ ایس ٹرسٹ نے سی پی ایس پی سے تمام تعلقات ختم کر دیے ہیں اور انگلینڈ میں ایک اور قومی سطح کے بیرون ملک تربیتی پروگرام سے بھی دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

آڈٹ میں برطانوی عملے کے پاکستان سے متعلق بھرتی دوروں پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جن پر 2017 کے بعد ایک لاکھ 22 ہزار پاؤنڈ سے زائد خرچ ہوئے، مگر انہیں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد کے تحت ظاہر نہیں کیا گیا۔

یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم کے چیف میڈیکل آفیسر کیرن پٹیل نے انتظامی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ کے عملے کی جانب سے کسی فراڈ کے شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ برمنگھم میں موجود باقی 101 پاکستانی ڈاکٹروں کو اب مقامی ڈاکٹروں کے برابر این ایچ ایس معاہدوں کی پیشکش کر دی گئی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بیرون ملک تربیتی پروگراموں کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی حکام کو بین الاقوامی طبی تربیتی معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا تاکہ مستقبل میں ڈاکٹروں کے استحصال اور ملکی صحت کے نظام کو پہنچنے والے نقصان سے بچا جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار، تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ مرض سے لاعلم

کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں طالبات کے لیے کامن روم کا افتتاح

ادویات کی قلت کا فوری خطرہ نہیں تاہم کمپنیاں تیار رہیں: ڈریپ