اسلام آباد: حیدرآباد ڈویژن میں ایک سال میں 186 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کے بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نےسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) سے ذمہ دار معالجین اور صحت کی سہولیات کی تفصیلات چار روز میں طلب کر لی ہیں اور واضح کیا ہے کہ معلومات موصول ہونے کے بعد قانون کے مطابق ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ارسال کیے گئے سرکاری مراسلے میں پی ایم ڈی سی نے حیدرآباد ڈویژن میں ایچ آئی وی انفیکشنز سے متعلق وائٹلز نیوز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بالغوں اور خصوصاً بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز انتہائی تشویشناک ہیں اور یہ صورتحال انفیکشن کنٹرول میں خامیوں، غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور ممکنہ طور پر غیر رجسٹرڈ یا غیر معیاری طبی مراکز کی نشاندہی کرتی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا کہ مریضوں، بالخصوص بچوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ان تمام معالجین اور طبی اداروں کی تفصیلات، جن کا مذکورہ واقعات سے تعلق بنتا ہو، متعلقہ دستاویزات سمیت چار روز کے اندر پی ایم ڈی سی کو فراہم کرے۔
پی ایم ڈی سی نے کہا کہ مطلوبہ معلومات موصول ہونے کے بعد اپنے قانونی مینڈیٹ کے تحت ضروری ریگولیٹری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کونسل نے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی درخواست بھی کی ہے۔
پی ایم ڈی سی کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جون 2025 سے 20 جون 2026 کے دوران حیدرآباد ڈویژن میں 186 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد رجسٹرڈ متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 293 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حیدرآباد ڈویژن میں رجسٹرڈ بچوں کے ایچ آئی وی کیسز میں سے 63 فیصد سے زائد صرف گزشتہ ایک سال کے دوران سامنے آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اقدامات کے باوجود بچوں میں وائرس کی منتقلی کا سلسلہ مؤثر طور پر نہیں روکا جا سکا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق جولائی 2024 سے 30 مئی 2025 تک 107 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی، جبکہ اس کے بعد اگلے بارہ ماہ میں مزید 186 بچے وائرس سے متاثر پائے گئے۔
حیدرآباد ضلع اس وقت ڈویژن میں ایچ آئی وی کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں 2,734 رجسٹرڈ مریضوں میں سے 2,079 کا تعلق صرف ضلع حیدرآباد سے ہے، جو مجموعی کیسز کا تقریباً 76 فیصد بنتا ہے۔ جامشورو میں 309، مٹیاری میں 182، ٹنڈو محمد خان میں 70 اور ٹنڈو الہ یار میں 69 مریض رجسٹرڈ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایچ آئی وی کی منتقلی کی سب سے بڑی وجہ جنسی تعلقات ہیں، جن سے 1,531 افراد متاثر ہوئے۔ غیر محفوظ خون کی منتقلی سے 872 افراد وائرس کا شکار ہوئے، جبکہ انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں میں 151 کیسز رپورٹ ہوئے۔ آلودہ سرنجوں سے 93 افراد متاثر ہوئے، 31 کیسز میں وجہ معلوم نہیں ہو سکی، جبکہ ماں سے بچے میں منتقلی کے 13، سرجری یا ڈینٹل طریقہ کار سے 10 اور پیشہ ورانہ نمائش سے آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بچوں میں ایچ آئی وی کا ہر کیس بنیادی طور پر قابلِ تدارک وجوہات سے منسلک ہوتا ہے، جن میں غیر محفوظ خون کی منتقلی، آلودہ سرنجوں کا استعمال، انفیکشن کنٹرول میں ناکامی اور ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی شامل ہیں۔ ان کے مطابق خون کی منتقلی کے مراکز کی مؤثر نگرانی، عطیہ شدہ خون کی لازمی اسکریننگ، حاملہ خواتین کی ایچ آئی وی جانچ اور طبی مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے عالمی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ہی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔