تحریر: محمد وقار بھٹی
پاکستان میں ہر سال طبی کانفرنسوں، سیمینارز، ورکشاپس اور مسلسل طبی تعلیم (Continuing Medical Education) کے نام پر 7 سے 10 ارب روپے تک خرچ کیے جاتے ہیں۔ بظاہر اس سرمایہ کاری کا مقصد ڈاکٹروں کو جدید طبی تحقیق، نئی ادویات، علاج کے بہتر طریقوں اور عالمی طبی پیش رفت سے آگاہ رکھنا ہے، لیکن اب دوا ساز صنعت سے وابستہ متعدد افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اتنی خطیر رقم واقعی سائنسی علم کے فروغ اور مریضوں کی بہتری پر خرچ ہو رہی ہے، یا اس کا بڑا حصہ ایسی سرگرمیوں پر صرف ہو رہا ہے جن کا طبی تعلیم سے تعلق بہت محدود رہ گیا ہے۔
پاکستان میں اس وقت 150 سے زائد میڈیکل سوسائٹیاں، درجنوں میڈیکل یونیورسٹیاں، تدریسی اسپتال اور پیشہ ورانہ طبی ادارے ہر سال سینکڑوں کانفرنسیں، سیمینارز، ورکشاپس اور CME پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر سرگرمیوں کے اخراجات براہ راست یا بالواسطہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی اسپانسرشپ سے پورے کیے جاتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے جاری اس روایت کو طبی دنیا میں معمول سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اب خود فارماسیوٹیکل صنعت اس نظام پر سوالات اٹھانے لگی ہے۔
وائٹلز نیوز کی جانب سے کئی ماہ تک کیے گئے جائزے کے دوران حاصل ہونے والی اسپانسرشپ دستاویزات، نرخ ناموں، انوائسز اور مالی پیکجز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف طبی سوسائٹیاں کانفرنسوں، سائنسی نشستوں، ورکشاپس، نمائشی اسٹالز، مہمان نوازی، عشائیوں، ہوٹلوں میں قیام اور دیگر انتظامات کے لیے چند لاکھ سے لے کر کئی ملین روپے تک کی اسپانسرشپ طلب کرتی ہیں۔
اس تحقیق کے دوران جائزہ لیے گئے بعض اسپانسرشپ پیکجز کی مالیت 30 لاکھ سے 75 لاکھ روپے تک تھی۔ ایک طبی سوسائٹی نے صرف رجسٹریشن اور مہمان نوازی کے لیے 26 لاکھ 65 ہزار روپے مانگے، جبکہ ایک دوسری سوسائٹی نے ایک ہی ورکشاپ کے لیے 25 لاکھ روپے کی اسپانسرشپ طلب کی۔ اس کے علاوہ مختلف کمپنیوں سے سائنسی سیشنز، استقبالیہ تقاریب، ظہرانوں، عشائیوں، کانفرنس بیگز، یادگاری تحائف اور نمائشی اسٹالز کے لیے بھی الگ الگ رقوم طلب کی جاتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کانفرنسوں میں شریک ہونے والے ڈاکٹر عموماً رجسٹریشن فیس بھی ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود اخراجات کا بڑا حصہ دوا ساز صنعت برداشت کرتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے گزشتہ چند برسوں میں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے اندر بے چینی پیدا کی ہے۔
وائٹلز نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد دوا ساز کمپنیوں کے مالکان اور اعلیٰ عہدیداروں نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، دعویٰ کیا کہ بعض مواقع پر اسپانسرشپ کی درخواست محض ایک درخواست نہیں رہتی بلکہ ایک ایسے دباؤ کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس سے انکار کمپنیوں کے کاروبار پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ایک معروف فارماسیوٹیکل کمپنی کے مالک نے کہا، “ہمیں بعض سوسائٹیوں کی جانب سے مسلسل اسپانسرشپ کے لیے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ اگر کسی تقریب کی سرپرستی نہ کریں تو خدشہ رہتا ہے کہ ہمارے برانڈز کو نظر انداز کیا جائے گا، جس سے ہمیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔”
دیگر کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے، تاہم کوئی بھی کھل کر اپنا نام ظاہر کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بااثر طبی تنظیموں کے خلاف بولنے کی صورت میں انہیں تجارتی نقصان، کاروباری مشکلات یا دیگر ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
البتہ فارماسیوٹیکل صنعت کے نمائندے یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ وہ طبی تعلیم یا سائنسی سرگرمیوں کی مخالفت نہیں کرتے۔ ان کے مطابق دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی دوا ساز کمپنیاں طبی تحقیق، کانفرنسوں، فیلوشپس، تربیتی پروگراموں اور ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرتی رہی ہیں۔ اعتراض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسپانسرشپ کا بڑا حصہ سائنسی سرگرمیوں کے بجائے پرتعیش ہوٹلوں، مہنگی ضیافتوں، رہائش، مہمان نوازی اور دیگر غیر تعلیمی اخراجات پر صرف ہونے لگے۔
پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر خالد شفیع اس معاملے کو نسبتاً متوازن انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں حکومت طبی سوسائٹیوں کو خاطر خواہ مالی معاونت فراہم نہیں کرتی، جس کے باعث کانفرنسوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے فارماسیوٹیکل صنعت کی مدد ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صنعت اور طبی برادری کے درمیان تعاون دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ روایت ہے، بشرطیکہ یہ تعاون شفاف، اخلاقی اور صرف طبی تعلیم تک محدود رہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض مواقع پر اسپانسرشپ کے مطالبات مناسب حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں، جبکہ بعض فارماسیوٹیکل کمپنیاں بھی انفرادی ڈاکٹروں کو غیر شفاف مالی فوائد فراہم کر کے اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
صحت کے شعبے کے ریگولیٹرز بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ڈاکٹروں اور دوا ساز صنعت کے درمیان مالی تعلقات کو زیادہ مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔
وزارت قومی صحت کے حکام کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے ڈاکٹروں اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے تعلقات سے متعلق ایک جامع ضابطۂ اخلاق تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد غیر اخلاقی مارکیٹنگ کی حوصلہ شکنی، مفادات کے ٹکراؤ کو کم کرنا اور ادویات کے معقول استعمال کو فروغ دینا ہے۔
پی ایم ڈی سی کے سینئر حکام کے مطابق پاکستان اس مسئلے سے دوچار ہونے والا پہلا ملک نہیں۔ امریکہ میں بھی برسوں قبل اسی نوعیت کے خدشات سامنے آنے کے بعد Physician Payments Sunshine Act نافذ کیا گیا، جس کے تحت دوا ساز اور میڈیکل ڈیوائس کمپنیاں ڈاکٹروں اور تدریسی اسپتالوں کو کی جانے والی تمام مالی ادائیگیاں عوام کے سامنے ظاہر کرنے کی پابند ہیں۔ بعد ازاں کئی یورپی ممالک نے بھی اسی طرز کے شفافیت کے قوانین متعارف کرائے۔
پی ایم ڈی سی حکام کا کہنا ہے کہ جب مالی مفادات طبی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں تو اس کا نقصان بالآخر مریضوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جنہیں غیر ضروری ادویات، اضافی ٹیسٹ اور مہنگے علاج کی صورت میں قیمت چکانا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق کونسل غیر اخلاقی رویوں کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے، تاہم کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کے لیے مستند دستاویزی شواہد درکار ہوں گے۔
ایس آئی یو ٹی کے سینٹر آف بایومیڈیکل ایتھکس اینڈ کلچر کے چیئرمین پروفیسر امیر جعفری کے مطابق اگر اسپانسرشپ دباؤ، جبر یا کسی قسم کی تجارتی شرط کے تحت حاصل کی جا رہی ہے تو یہ پیشہ ورانہ اخلاقیات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کے بقول دوا ساز کمپنیوں، طبی اداروں اور میڈیکل سوسائٹیوں کے درمیان ہونے والے تمام مالی معاملات شفاف، قابلِ آڈٹ اور واضح اخلاقی اصولوں کے تابع ہونے چاہییں۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے حکام بھی مالی معاملات میں زیادہ شفافیت کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پروموشنل اخراجات کی رپورٹنگ زیادہ تر دستی طریقے سے ہوتی ہے، جس کے باعث مؤثر نگرانی ممکن نہیں رہتی۔ اگر اس نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا جائے تو غیر معمولی اخراجات کی نشاندہی اور احتساب دونوں آسان ہو جائیں گے۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان کے مطابق فارماسیوٹیکل صنعت کی جانب سے طبی تعلیم کی معاونت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کا ہر پہلو شفافیت، احتساب اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بھی برقرار رہے اور طبی فیصلوں کی غیر جانبداری پر بھی کوئی سوال نہ اٹھے۔
صحت عامہ کے متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو بھی اب ایسا قانونی نظام متعارف کرانے پر غور کرنا چاہیے جس کے تحت میڈیکل سوسائٹیاں اپنی اسپانسرشپ سے حاصل ہونے والی آمدنی، مالی حسابات، آڈٹ رپورٹس اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کو عوام کے سامنے ظاہر کرنے کی پابند ہوں۔
کیونکہ اب بحث صرف اس بات کی نہیں رہی کہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں طبی تعلیم کی مالی معاونت کریں یا نہ کریں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اربوں روپے کی اس اسپانسرشپ سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ کیا اس کا حقیقی ثمر جدید طبی تحقیق، بہتر علاج اور مریضوں تک پہنچ رہا ہے، یا یہ نظام رفتہ رفتہ چند بااثر حلقوں کے لیے مالی اور انتظامی مفادات کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صرف دوا ساز صنعت یا طبی سوسائٹیاں ہی نہیں بلکہ ریگولیٹرز، ڈاکٹرز، پالیسی سازوں اور سب سے بڑھ کر عوام کو بھی تلاش کرنا ہوگا، کیونکہ آخرکار اس پورے نظام کا مقصد مریض کی بہتر دیکھ بھال ہونا چاہیے، نہ کہ اسپانسرشپ کی دوڑ۔