چینی شہری آخر انسانی پلیسنٹا کیوں جمع کر رہے تھے؟

اگر آپ کا گزر کبھی سول اسپتال کراچی کے گائنی وارڈ کی طرف ہو تو وہاں آپ کو آوارہ کتے اور بلیاں خون آلود لوتھڑوں پر منہ مارتے نظر آ سکتے ہیں۔ یہ خون آلود لوتھڑے عموماً طبی فضلہ یا طبی اصطلاح میں پلیسنٹا (Placenta) ہوتے ہیں، جو بچے کی پیدائش کے بعد ماں کے جسم سے الگ کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بیشتر سرکاری اور نجی اسپتالوں میں انہیں طبی فضلے کے طور پر تلف کر دیا جاتا ہے، لیکن کئی مقامات پر ان کا غیر محفوظ انداز میں ٹھکانے لگایا جانا ایک الگ مسئلہ ہے، جہاں یہ کچرے میں پڑے رہتے ہیں اور آوارہ جانور انہیں کھا جاتے ہیں۔

لیکن کیا انسانی پلیسنٹا واقعی محض طبی فضلہ ہے؟

یہ سوال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر “انسانی اعضاء” اکٹھا کرنے، انہیں پروسیس کرنے اور بیرون ملک سمگل کرنے کے الزام میں تین چینی اور دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے ساتھ ہی مقامی اور سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں جن میں ڈیپ فریزرز کے اندر پلاسٹک کی تھیلیوں میں بند خون آلود لوتھڑے دکھائے گئے، جس کے بعد بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ شاید یہ مواد خوراک کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ دوسری جانب ایف آئی اے نے بھی ابھی تک سرکاری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ برآمد ہونے والا مواد درحقیقت کیا تھا۔ بعض طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیوز میں دکھائی دینے والا مواد بظاہر پلیسنٹا معلوم ہوتا ہے، اگرچہ اس کی سرکاری تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر برآمد ہونے والا مواد واقعی پلیسنٹا تھا تو اسے روایتی معنوں میں انسانی عضو نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی بافت (Biological Tissue) سمجھا جاتا ہے، جسے پاکستان میں اب بھی زیادہ تر طبی فضلے کے طور پر ہی تلف کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی پیدائش کے بعد اسے اکثر غیر محفوظ طریقے سے کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے، جہاں آوارہ کتے اور بلیاں اسے کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

تو آخر چینی شہری اسے پروسیس کیوں کر رہے تھے؟

معروف طبی ماہر اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر قائد سعید کا کہنا ہے کہ انسانی پلیسنٹا ایک انتہائی قیمتی حیاتیاتی بافت ہے اور ترقی یافتہ ممالک اس کی طبی اہمیت کو برسوں پہلے تسلیم کر چکے ہیں کیونکہ اس میں مختلف اقسام کے قیمتی سٹیم سیلز بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ انہی سٹیم سیلز کی وجہ سے پلیسنٹا کو دنیا بھر میں ری جنریٹو میڈیسن (Regenerative Medicine) کے میدان میں تحقیق کے لیے ایک نہایت اہم حیاتیاتی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق انسانی پلیسنٹا میں موجود مختلف اقسام کے سٹیم سیلز سے ہڈی، کارٹیلج، پٹھوں، کنیکٹو ٹشوز اور دیگر بافتوں کی مرمت یا دوبارہ تشکیل کی صلاحیت پر تحقیق جاری ہے، جبکہ آنول نال (Umbilical Cord) کے خون میں موجود خون بنانے والے سٹیم سیلز (Hematopoietic Stem Cells) سرخ اور سفید خون کے خلیات اور پلیٹ لیٹس بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پلیسنٹا سے سٹیم سیلز حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں ان کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور انہیں لیبارٹری میں تیزی سے بڑھایا (Expand) جا سکتا ہے۔

کئی دیگر ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بچوں کو جنم دینے والی ماؤں کی باقاعدہ رضامندی سے پلیسنٹا اور آنول نال حاصل کر کے انہیں انتہائی محفوظ طریقے سے پروسیس کیا جاتا ہے تاکہ سٹیم سیلز الگ کیے جا سکیں۔ ان سٹیم سیلز کو طویل مدت کے لیے عموماً مائع نائٹروجن میں تقریباً منفی 196 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں تحقیق اور، جہاں ممکن ہو، علاج میں استعمال کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق پلیسنٹا سے حاصل ہونے والے سٹیم سیلز پر اوسٹیو آرتھرائٹس، ہڈیوں اور جوڑوں کے امراض، شدید زخم، جلنے کے کیسز، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں، فالج، دل، جگر اور گردوں سمیت متعدد بیماریوں میں تحقیق جاری ہے، جبکہ آنول نال کے خون سے حاصل ہونے والے سٹیم سیلز پہلے ہی بعض خون کی بیماریوں کے علاج میں معمول کی طبی پریکٹس کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم پلیسنٹا سے حاصل ہونے والے سٹیم سیلز کے بیشتر استعمالات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔

نامور ماہر امراض ہڈی و جوڑ ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت منتخب مریضوں میں بون میرو سے حاصل کیے گئے سٹیم سیلز کے ذریعے علاج کر رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق پلیسنٹا اور آنول نال کا خون دنیا میں سٹیم سیلز کے بہترین اور بھرپور ذرائع میں شمار ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں اس شعبے پر ابھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق وہ پاکستان میں کورڈ بلڈ بینک (Cord Blood Bank) قائم کرنے کی کئی برسوں سے کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس سلسلے میں غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورڈ بلڈ بینک میں آنول نال کے خون کو محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں اس سے سٹیم سیلز حاصل کر کے مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جا سکے۔ ان کے بقول اس مقصد کے لیے انہیں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے اجازت درکار ہے، لیکن یہ معاملہ طویل عرصے سے سرخ فیتے کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں جدید تقاضوں کے مطابق کورڈ بلڈ بینک قائم کیے جائیں تو نہ صرف مستقبل میں علاج معالجے کے نئے امکانات پیدا ہوں گے بلکہ ملک میں بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ ملے گا اور قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکے گا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایف آئی اے کی کارروائی میں واقعی پلیسنٹا یا اس سے متعلق حیاتیاتی مواد برآمد ہوا ہے تو اس واقعے کو محض سنسنی خیزی یا فوجداری مقدمے کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کے سائنسی اور طبی پہلوؤں پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان میں انسانی پلیسنٹا کو صرف طبی فضلہ سمجھ کر ضائع کرنے کے بجائے اس سے متعلق تحقیق، واضح قانون سازی اور مؤثر ریگولیشن کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں سٹیم سیل ریسرچ، ری جنریٹو میڈیسن اور کورڈ بلڈ بینکنگ کے ذریعے مریضوں اور طبی تحقیق دونوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

ادارہ: اس تحریر کا مقصد ایف آئی اے کی زیرِ تفتیش کارروائی یا گرفتار افراد کے مبینہ اقدامات کی توجیہ یا حمایت کرنا نہیں، بلکہ صرف یہ وضاحت کرنا ہے کہ اگر برآمد ہونے والا مواد واقعی پلیسنٹا تھا تو دنیا بھر میں اس کی سائنسی اور طبی اہمیت کیا ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں