سرکاری اسکولوں کے اساتذہ تعلیم اور تربیت میں نجی شعبے سے آگے، نصف سے زائد ماسٹرز ڈگری ہولڈر: رپورٹ

اسلام آباد: پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ اعتبار سے نجی اسکولوں کے اساتذہ کے مقابلے میں زیادہ اہل ہیں، جہاں نصف سے زائد اساتذہ ماسٹرز یا اس سے اعلیٰ ڈگریوں کے حامل ہیں، جبکہ پیشہ ورانہ تدریسی اسناد رکھنے والوں کی شرح بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ انکشاف گیلپ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اے ایس ای آر پاکستان 2025 کے ٹیچر لیول ڈیٹا کے تجزیے میں سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 52.4 فیصد سرکاری اسکول اساتذہ ماسٹرز یا اس سے اعلیٰ تعلیم رکھتے ہیں، جبکہ نجی اسکولوں میں یہ شرح 39.1 فیصد ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی تعداد سرکاری شعبے میں زیادہ ہے۔

دوسری جانب نجی اسکولوں میں درمیانی سطح کی تعلیمی قابلیت رکھنے والے اساتذہ کا تناسب زیادہ پایا گیا۔ تقریباً 18.9 فیصد نجی اسکول اساتذہ ایف اے تک تعلیم یافتہ ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں میں یہ شرح 9.6 فیصد ہے۔ اسی طرح 6.4 فیصد نجی اسکول اساتذہ میٹرک پاس ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں میں یہ تناسب 5.2 فیصد ہے۔

بی اے کی سطح پر دونوں شعبوں کے درمیان فرق نسبتاً کم رہا، جہاں 30.6 فیصد نجی اسکول اساتذہ بی اے ڈگری رکھتے ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں میں یہ شرح 27.7 فیصد ہے۔

تجزیے کے مطابق سرکاری اسکولوں کے اساتذہ پیشہ ورانہ تدریسی اسناد کے حوالے سے بھی آگے ہیں۔ 41.3 فیصد سرکاری اساتذہ بی ایڈ ڈگری کے حامل ہیں، جبکہ نجی اسکولوں میں یہ شرح 33.4 فیصد ہے۔ اسی طرح 23.4 فیصد سرکاری اساتذہ ایم ایڈ ڈگری رکھتے ہیں، جبکہ نجی شعبے میں یہ تناسب 15.3 فیصد ہے۔

البتہ سرٹیفکیٹ اِن ٹیچنگ (سی ٹی) رکھنے والے اساتذہ کی شرح نجی اسکولوں میں قدرے زیادہ رہی، جہاں یہ تناسب 12.4 فیصد تھا، جبکہ سرکاری اسکولوں میں 9.9 فیصد اساتذہ اس سند کے حامل پائے گئے۔

گیلپ پاکستان کے مطابق دونوں شعبوں کے درمیان یہ فرق ان کے ڈھانچے اور بھرتی کے طریقہ کار کی وجہ سے ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی باقاعدہ طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے اور انہیں معیاری تنخواہیں، ترقی کے مواقع اور ملازمت کا تحفظ حاصل ہوتا ہے، جو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اس کے برعکس نجی اسکول نسبتاً لچکدار بھرتی کے نظام اور درمیانی سطح کی تعلیمی قابلیت رکھنے والے افراد پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جس کی ایک وجہ مالی وسائل کی محدودیت اور مقامی لیبر مارکیٹ میں فرق بھی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ کی قابلیت میں یہ فرق تدریسی طریقوں، تعلیمی مہارتوں اور طلبہ کے سیکھنے کے نتائج پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تجزیے میں زور دیا گیا کہ پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نجی اسکولوں میں پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع بڑھانے اور اساتذہ کی اہلیت کے معیارات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں شعبوں کے درمیان موجود فرق کم کیا جا سکے اور تدریسی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

یہ نتائج ادارہ تعلیم و آگاہی (آئی ٹی اے) کی مرتب کردہ اے ایس ای آر پاکستان 2025 کے قومی دیہی و شہری ڈیٹا سیٹ پر مبنی ہیں، جس کا تجزیہ گیلپ پاکستان نے اپنے بگ ڈیٹا اینالیسز پروگرام کے تحت کیا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں