بالائی سندھ کے بچوں میں پراسرار جلدی مرض پھیلنے لگا، ڈاکٹرز کو ایم پاکس کا شبہ

گمبٹ/خیرپور/لاڑکانہ: بالائی سندھ کے مختلف علاقوں میں بچوں میں جلد پر شدید زخموں اور دانوں پر مشتمل ایک پراسرار بیماری سامنے آنے لگی ہے جس پر معالجین نے ایم پاکس کے ممکنہ پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا ہے، تاہم ٹیسٹنگ میں تاخیر اور اداروں کے درمیان رابطے کی کمی کے باعث صورتحال مزید تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔

مقامی ماہرین اطفال کے مطابق گزشتہ چند روز سے گمبٹ، خیرپور اور لاڑکانہ میں بچوں کو ایسے جلدی زخموں اور دانوں کے ساتھ اسپتالوں اور کلینکس لایا جا رہا ہے جو نہ تو چکن پاکس سے مشابہت رکھتے ہیں اور نہ ہی خسرہ سے، جس کے باعث ڈاکٹروں میں ایک نئے وائرل انفیکشن کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں کی اطلاع پر ماہرین وبائیات اور متعدی امراض کے ماہرین کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کا دورہ کر چکی ہیں اور مشتبہ مریضوں سے نمونے حاصل کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کے حکام نے بتایا کہ انہیں تاحال گمبٹ یا خیرپور سے تاحال کوئی نمونے لیبارٹری تجزیے کے لیے موصول نہیں ہوئے۔

گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایک سینئر ماہر اطفال نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے کم از کم چھ ایسے کیسز دیکھے ہیں جو طبی طور پر ایم پاکس سے مشابہ ہیں، جن میں بچوں کے جسم پر نمایاں زخم اور شدید دانے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ چکن پاکس ہیں اور نہ خسرہ، تاہم لیبارٹری ٹیسٹ کے بغیر حتمی تصدیق ممکن نہیں، جبکہ اسی نوعیت کے کیسز خیرپور اور لاڑکانہ میں بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خیرپور ڈاکٹر برکت علی نے تصدیق کی کہ کوٹ ڈیجی اور ساگیو دیہات میں کئی بچوں میں مشتبہ جلدی بیماری سامنے آئی ہے جس پر ضلعی انتظامیہ نے صوبائی محکمہ صحت سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں لیکن لیبارٹری رپورٹ کے بغیر بیماری کی نوعیت کا تعین ممکن نہیں، اس وقت مریضوں کا علاج علامات کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔

چند علاقوں سے اس بیماری کی وجہ سے بچوں کی اموات کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دیہی سندھ میں نگرانی کا نظام کمزور ہونے اور پوسٹ مارٹم نہ ہونے کے باعث اموات کی درست تعداد اور وجوہات کا تعین مشکل ہوتا ہے۔

قومی ادارہ صحت اسلام آباد کے حکام نے بتایا کہ وہ اس مشتبہ صورتحال سے آگاہ ہیں اور متاثرہ بچوں کی تصاویر کا جائزہ لے چکے ہیں، تاہم انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ صوبائی حکام کی جانب سے تاحال نمونے اور مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ بارہا نمونے اور ڈیٹا فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے لیکن بروقت معلومات نہ ملنے سے بیماری کی تصدیق اور اس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے، اور ایسی تاخیر سے قابلِ تدارک نقصانات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

وفاقی صحت حکام نے بھی اس بات پر زور دیا کہ صوبائی اور قومی اداروں کے درمیان رابطے کی کمی متعدی امراض کی نگرانی اور بروقت ردعمل میں رکاوٹ بن رہی ہے، اور اگر ڈیٹا شیئر نہ کیا جائے تو بیماریوں کی نگرانی کا نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لاڑکانہ اور اس کے گردونواح میں ماضی میں بچوں میں ایچ آئی وی کے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جس کے باعث متاثرہ بچوں کی قوت مدافعت کمزور ہو سکتی ہے اور وہ ایم پاکس جیسے انفیکشن کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمزور مدافعت رکھنے والے بچوں میں غیر معمولی اور شدید انفیکشنز کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے فوری تشخیص اور مربوط حکمت عملی نہایت ضروری ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ حیدرآباد کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ نمونے حاصل کر کے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں اور نتائج جلد جاری کیے جائیں گے، تاہم فیلڈ رپورٹس اور لیبارٹری کی جانب سے عدم وصولی کے دعووں میں تضاد نے ردعمل کی مؤثریت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

خیرپور اور لاڑکانہ میں موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت تشخیص نہ ہوئی اور صورتحال واضح نہ کی گئی تو یہ بیماری خصوصاً دیہی علاقوں میں بچوں میں مزید پھیل سکتی ہے، جہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں-

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

بالائی سندھ کے بچوں میں پراسرار جلدی مرض پھیلنے لگا، ڈاکٹرز کو ایم پاکس کا شبہ

بلوچستان میں جدید کارڈیک سہولیات کا قیام، بی آئی سی وی ڈی منصوبہ چھ ہفتوں میں مکمل ہونے کا امکان

گارڈن سے ریبیز کا کیس، 42 سالہ شخص جاں بحق، مجموعی اموات 7 ہوگئیں