کراچی: سندھ میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر نظامِ صحت اور آوارہ کتوں کے بے قابو مسئلے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں میرپورخاص کے علاقے ڈگری سے تعلق رکھنے والی 10 سالہ بچی ریبیز کے باعث انتقال کر گئی، جبکہ ایک روز قبل لیاری کے 75 سالہ بزرگ کو بھی ریبیز کی تشویشناک حالت میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لایا گیا تھا۔
دونوں کیسز میں متاثرہ افراد کو کتے کے کاٹنے کے بعد بروقت ویکسین اور حفاظتی انجیکشن نہیں لگائے گئے، جس کے باعث بیماری مہلک مرحلے تک پہنچ گئی۔
انڈس اسپتال ذرائع کے مطابق ڈگری کی بچی کو تقریباً دو ماہ قبل ایک آوارہ کتے نے چہرے پر کاٹا تھا، تاہم اہلِ خانہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی طبی امداد حاصل نہیں کی گئی۔ چار روز قبل بچی کو بخار اور ذہنی کیفیت میں تبدیلی کی شکایت ہوئی، جس کے بعد حالت تیزی سے بگڑتی گئی۔
اتوار کی شب اسے کراچی کے انڈس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پہنچنے پر اس میں پانی سے خوف (ہائیڈروفوبیا) اور ہوا سے گھبراہٹ (ایئروفوبیا) جیسی علامات ظاہر ہو چکی تھیں، جو ریبیز کے آخری مراحل کی واضح نشانیاں ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس مرحلے پر علاج ممکن نہیں رہتا اور صرف علامتی نگہداشت ہی دی جا سکتی ہے۔
اس سے ایک روز قبل لیاری کے رہائشی 75 سالہ بزرگ کو جناح اسپتال لایا گیا تھا، جنہیں تقریباً تین ماہ قبل کتے نے کاٹا تھا مگر انہوں نے بھی بروقت طبی علاج حاصل نہیں کیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق بزرگ میں بھی ریبیز کی کلاسیکی علامات ظاہر ہو چکی تھیں اور ان کی حالت نہایت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک سو فیصد مہلک مرض ہے، مگر بروقت زخم کو صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھو کر، فوری طور پر ریبیز ویکسین اور ضرورت پڑنے پر ریبیز امیونوگلوبلین لگوایا جائے تو اس بیماری سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن ہے۔ ان کے مطابق عوام میں آگاہی کی کمی، دیہی اور کچی آبادیوں میں سہولیات کی عدم دستیابی اور بعض اوقات ویکسین یا امیونوگلوبلین کی قلت ایسے عوامل ہیں جو قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔
طبی ماہرین اور پبلک ہیلتھ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ بھر میں آوارہ کتوں کی ویکسینیشن، آبادی پر قابو پانے کے مؤثر اور مستقل پروگرام شروع کیے جائیں اور تمام سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلین کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقتی مہمات اور جزوی اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور عوام بدستور آوارہ کتوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔
ڈاکٹروں نے والدین اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ کتے کے کاٹنے، نوچنے یا زخم پر چاٹنے کے ہر واقعے کو ہنگامی طبی صورتحال سمجھا جائے اور فوری طور پر قریبی اسپتال یا ویکسینیشن سینٹر سے رجوع کیا جائے، کیونکہ علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں رہتا۔
