بھوک کی بصیرت

تحریر : محمد وقار بھٹی

چند سال قبل جب انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے جرمن صدر پیٹر شوارز نے کراچی میں ایک طبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص دو ہفتوں تک کوئی کیلوری نہ لے ( یعنی بھوکا رہے) ہر روز 10 ہزار قدم چلے اور روزانہ چار لیٹر پانی پیے، تو وہ شخص شوگر کی بیماری کو ختم کرنے پر قادر ہو جاتا ہے، تو نہ صرف میں نے بلکہ اس کانفرنس میں اکثر لوگوں نے اُسے ایک پاگل ہی سمجھا تھا۔

اس دن کانفرنس کے اختتام پر جب میں نے اپنے ایک اینڈوکرائنالوجسٹ دوست سے پوچھا کہ کیا یہ شخص دو ہفتوں تک بھوکا رہنے کے متعلق کہہ رہا ہے، اور کیا کوئی شخص دو ہفتوں تک "بغیر کھائے” بھی زندہ رہ سکتا ہے، تو میرے اینڈوکرائنالوجسٹ ڈاکٹر دوست نے بھی یہی کہا تھا کہ بھائی ایک یہ پاگل ہے، اس کی باتوں پر مت جاؤ۔

مگر اس دوست نے ساتھ ہی مجھے یہ بھی کہا تھا کہ یہ "پاگل” شخص ہر سال یہ عمل خود بھی کرتا ہے۔ یعنی دو ہفتوں تک کچھ نہیں کھاتا، صرف پانی پیتا ہے، اور روزانہ 10 ہزار قدم یا اس سے زائد چلتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے جسم میں موجود چربی خصوصا جگر کی چربی توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور دو ہفتوں تک اُسے بیرونی خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جس کے نتیجے میں اس کا جسم ایک نئے پیدا ہونے والے انسان کے جسم جیسا ہو جاتا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ کیا ایسا کرنا کسی عام شخص کے لیے ممکن بھی ہے یا نہیں مگر ماہرینِ طب کہتے ہیں کہ کوئی بھی انسان بغیر کھائے پانچ سے سات ہفتوں تک زندہ رہ سکتا ہے، بشرطیکہ اُسے پانی ملتا رہے۔ مگر ایسا کرنے کہ اخر نوبت ہی کیوں آئے؟

یہ جو قرآن کہتا ہے کہ "تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے اُمتوں پر فرض کیے گئے تھے” تو یہ بھوکا رکھنے کی حکمت آخر ہے کیا؟

اور یہ جو بدھ بھکشو اور ہندو سنیاسی بغیر کھائے پیے کڑی تپسیا کرتے رہتے تھے اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے رہتے تھے، یہ جو فاسٹنگ بدھّا کی شبیہ ہمیں نظر آتی ہے، تو آخر اس کے پیچھے حکمت ہے کیا؟

اور وہ جو میرے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:
"انسان کی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے چند نوالے ہی کافی ہیں” اور "سب سے برا برتن جو انسان بھرتا ہے وہ اس کا پیٹ ہے”

تو آخر اس ارشاد مبارک کی حکمت کیا ہے؟

آج جب اپنی فاسٹنگ شوگر اور ایچ بی اے وَن سی (HbA1c) کا نتیجہ آیا تو پتا چلا کہ ہم بھی پری ڈائبیٹک ہیں۔ رات ایک محفل میں شریک ہوا، جس کے بعد کھانا تھا۔ جب کھانا آیا تو سب نے اصرار کرنا شروع کیا کہ میں بھی کھاؤں۔ ہلکی سی بھوک تھی مگر میں نے کھانا کھانے سے گریز کیا اور جب اصرار بڑھا تو تنگ ا کر کہا کہ میں روزے سے ہوں۔ یقین کیجیے، کہ اُنہیں خود کھانے کی اتنی تمنا نہیں تھی جتنا وہ مجھے کھلانے پر مُصر تھے۔ نہ جانے کیوں؟

ہیلتھ رپورٹنگ کرتے ہوئے برسوں بیت گئے، ہر روز نئے انکشافات، نئے مسائل سامنے آتے ہیں، مگر ایک بات جو بنیادی حیثیت رکھتی ہے وہ فطرت سے دوری اور مصنوعی طرزِ زندگی ہے۔

پاکستان میں ایک طرف تو لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں اور دوسری طرف غذائی زیادتی کا۔ صدیوں کی بھوک نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا کیونکہ اس قوم کے 70 سے 80 فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ باقی، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں، شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

معروف طبی محقق اور سائنسدان پروفیسر جاوید اکرم ایک دفعہ کہنے لگے
"وقار بھائی! ہمیں تو روٹی کی طلب اور ہوس نے مار ڈالا ہے۔ دنیا جسے لنچ کہتی ہے، ہم اسے بھی روٹی کھانا کہتے ہیں۔ دنیا جسے ڈنر کہتی ہے، ہم اسے بھی روٹی کھانا کہتے ہیں۔ یہ روٹی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑ رہی۔”
اور آج یہ عالم ہے کہ پاکستان میں شوگر کی بیماری، جسے لوگ شاید چینی اور میٹھے کی بیماری سمجھتے ہیں، سب سے پہلے نمبر پر ہے۔

یہی حال بلڈ پریشر کا ہے۔ کروڑوں لوگ بلڈ پریشر کا شکار ہیں، لاکھوں لوگوں کے گردے خراب ہو چکے ہیں، ہارٹ اٹیک سے مرنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، اور فالج سے معذور ہونے والوں کی بھی کمی نہیں۔ وجہ صرف "روٹی کھانے کی ہوس”، غیر صحت مند خوراک، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر گھومنے کی ریس، اور فیکٹریوں میں بنے ہوئے کھانوں کی خواہش اور اشتہا ہے۔

چند دن قبل ایک معالج سے بات ہو رہی تھی فرمانے لگے
"اس سے پہلے کہ میں مریض کو بتاؤں کہ تم نے کم کھانا ہے، متوازن خوراک لینی ہے کیونکہ تمہاری بیماری کا سبب تمہارا بے تحاشہ اور غیر صحت مندانہ کھانا ہے، مریض اکثر پوچھتا ہے: ڈاکٹر صاحب! میں کیا کیا کھا سکتا ہوں؟ پرہیز کے دنوں میں کیا کیا مزید کھا سکتا ہوں؟”

رات کا یہ پہر ہے، بے ربط خیالات ہیں۔ ابھی ایک ہوٹل کے سامنے سے گزرا ہوں جس کے ویٹرز کی تعداد کم از کم ایک درجن سے زائد ہے، ٹوٹل عملہ شاید دو، ڈھائی درجن سے زیادہ ہوگا۔ حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ صرف ملازمین کی تنخواہوں پر کئی لاکھ روپے ماہانہ خرچ آتا ہوگا۔ سوچتا ہوں کہ اس ایک ہوٹل پر کھانے والے کتنا خرچ کرتے ہوں گے کہ مالک لاکھوں روپے صرف اخراجات کی مد میں ادا کرتا ہے۔ تو سوچیے، کتنا کماتا ہوگا؟

غیر متعدی بیماریوں کی صورت حال دیکھتا ہوں تو ربِ جلیل کی کبریائی کا معترف ہوتا ہوں جس نے اُمتِ محمدیہ اور اس سے پہلی امتوں پر روزے فرض کیے۔ اور امتوں کے دانا ترین افراد نے کم خوراکی اور کم گوئی کو دانائی کی اعلیٰ معراج قرار دیا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی ریبیز سے زیادہ متاثرہ قرار، نئی طبی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

میڈیکل اسٹوڈنٹ کی خودکشی، قصور وار ثابت ہونے پر فیکلٹی اور ادارے کے خلاف کارروائی ہوگی، پی ایم ڈی سی

کراچی میں نوجوان منکی پاکس کا شکار ، مشتبہ کیسز کی تعداد بڑھنے سے شہریوں میں خوف پھیلنے لگا، اسپتالوں میں ہائی الرٹ