ایران امریکہ مذاکرات اور پاکستانی صحافت کا المیہ

تحریر محمد وقار بھٹی

پاکستانی صحافتی اداروں میں 25 سال تک کام کرنے، بلکہ بیگار کرنے کے بعد، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میں عملی صحافی شدید ڈی مورلائزیشن، یعنی مایوسی، کا شکار ہیں۔ اس کے متعدد اسباب ہیں، جن کے نتیجے میں ملک میں صحافت زوال پذیر ہو کر پست ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔

حالیہ دنوں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی کوریج کے دوران پاکستان کے صحافیوں اور صحافتی اداروں کی کار کردگی اور رپورٹنگ کا معیار بھی زیرِ بحث آیا۔ میری رائے میں اس تنزلی کے پیچھے کئی عملی اور ساختیاتی یعنی اسٹرکچرل وجوہات کارفرما ہیں، جن کے باعث مجموعی طور پر پاکستانی صحافت اس کمزور سطح تک پہنچ چکی ہے۔

سب سے پہلی وجہ صحافیوں کو ملنے والی تنخواہیں ہیں، جو بقول ہمارے دوست محمد عظیم ثمر محض “گزارا الاؤنس” ہیں۔ یہ الاؤنسز بھی برسوں سے نہیں بڑھے، جس کے باعث افراطِ زر کے سبب ان کی حقیقی قدر میں ہر سال تقریباً 10 فیصد کمی واقع ہو رہی ہے۔ جب آپ کا ذریعۂ آمدن ہی آپ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو، تو کیا آپ ڈی مورلائزڈ اور مایوس نہیں ہوں گے؟

دوسری جانب، صحافیوں کا طرزِ زندگی اور دفاتر میں ان کی عزتِ نفس کی پامالی، کرائے کے مکانات میں رہائش اور مناسب سواریوں کی عدم دستیابی انہیں شدید احساسِ کمتری میں مبتلا رکھتی ہے۔ میں ایک بڑے انگریزی اخبار کے سینیئر ترین رپورٹر کو جانتا ہوں، جو اپنی برسوں پرانی کھٹارا مہران گاڑی گھر سے دور پارک کر آئے تھے، کیونکہ ان کے گھر بیٹی کے رشتے کے لیے لوگ آنے والے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی پرانی گاڑی ہونے والے سسرال اور داماد کی نظروں میں آئے۔ میرے نزدیک یہ مناسب رویہ نہیں تھا، لیکن شاید بیٹیوں کے باپ اس احساس کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

ایسے واقعات بے شمار ہیں، اور مجھے اکثر مرحوم سینیئر صحافی جناب قیصر محمود کی بے بسی سے بھری موت یاد آتی ہے۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے، مگر علاج کے لیے نہ ان کے پاس وسائل تھے اور نہ ہی ان کے ادارے نے ان کا خیال رکھا۔ آخری عمر میں دوستوں نے ان کے علاج کے لیے چندہ کرنے کا ارادہ کیا، کیونکہ ان کا علاج—یعنی باعزت اور درد سے محفوظ موت—انتہائی مہنگا تھا، جس کے لیے ماہانہ تقریباً دس لاکھ روپے درکار تھے۔

ان حالات میں، جب آپ شدید مایوسی، جسے میں ڈی مورلائزیشن کہتا ہوں، کا شکار ہوں، اور اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے کوئی تحریک بھی نہ ہو، اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ مناسب تربیت بھی نہ ملی ہو، تو صحافت کا معیار وہی ہوتا ہے جو آج ہمیں نظر آ رہا ہے۔

سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے صحافتی اداروں کو اس انداز میں کمزور کیا ہے اور تحقیقاتی صحافت کی اس قدر حوصلہ شکنی کی ہے کہ اب کوئی صحافی سنجیدگی سے کام کرنے کو تیار نہیں۔

میں چونکہ صحت کی رپورٹنگ کرتا ہوں اور اکثر خبر کے اندر کی خبر تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں، جس کا واحد مقصد مریضوں اور صحت کے اداروں کی بہتری ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود مجھے کئی مرتبہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ادارے کے اندر سے بھی حوصلہ شکنی ہوئی۔ نتیجتاً نہ ادارے کو تحقیقی صحافت میں دلچسپی رہی اور نہ ہی مجھے اس میدان میں پہلے جیسا جذبہ نظر آتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستانی حکام، عام افراد اور ماہرین خود تو سچ بولنے اور معلومات فراہم کرنے کو تیار نہیں ہوتے، لیکن تمام ناکامیوں کا ذمہ دار صحافیوں کو ٹھہراتے ہیں۔ اس کے جواب میں میں اکثر کہتا ہوں:

“محترم! وحی کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ ہمیں خبریں انسان ہی فراہم کرتے ہیں۔ اگر آپ ہمیں کوئی خبر، دستاویز یا اطلاع نہیں دیں گے اور سچ کو چھپائیں گے، تو نہ ہمیں وحی آتی ہے اور نہ الہام ہوتا ہے کہ ہم خبریں دے سکیں۔”

مسائل یقیناً بہت زیادہ ہیں، اور پاکستانی صحافت کے زوال پر مقالے لکھے جا سکتے ہیں، لیکن صحافتی اداروں کی بے توقیری اور صحافت کے انحطاط کے باعث سوشل میڈیا پر بدتمیزی کا طوفان برپا ہے، جس کے نتیجے میں فیک نیوز کا سیلاب امڈ آیا ہے۔

سوشل میڈیا پر چاہے آپ کے پیجز کے ایک کروڑ فالوورز ہی کیوں نہ ہو جائیں، کسی مستند صحافتی ادارے کی خبر ہی زیادہ قابلِ اعتبار سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اسے صحافی تحقیق کے بعد حاصل کر کے فائل کرتا ہے اور ادارتی جانچ پڑتال کے بعد نشر یا شائع کیا جاتا ہے۔

وما علینا الا البلاغ

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی ریبیز سے زیادہ متاثرہ قرار، نئی طبی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

میڈیکل اسٹوڈنٹ کی خودکشی، قصور وار ثابت ہونے پر فیکلٹی اور ادارے کے خلاف کارروائی ہوگی، پی ایم ڈی سی

کراچی میں نوجوان منکی پاکس کا شکار ، مشتبہ کیسز کی تعداد بڑھنے سے شہریوں میں خوف پھیلنے لگا، اسپتالوں میں ہائی الرٹ