سندھ میں ڈھائی لاکھ کے قریب بچے پولیو کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم

کراچی: سندھ میں انسداد پولیو کی حالیہ مہم کے باوجود 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد بچے، یعنی تقریباً 2.6 فیصد، تاحال پولیو کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ گئے۔ یہ انکشاف وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو پیش کی گئی تفصیلی رپورٹ میں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں انسداد پولیو مہم کی انتظامی کوریج 100 فیصد مکمل کی گئی، جبکہ گھر گھر مہم کی کوریج 99 فیصد اور ریکال کوریج 94 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ صحت مند مستقبل کے لیے پولیو کا مکمل خاتمہ لازمی ہے اور بچوں کی مضبوط جسمانی نشوونما پولیو کے خاتمے سے جڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ویکسین سے محروم بچوں تک فوری رسائی کو اولین ترجیح بنایا جائے اور بچوں کی مکمل ویکسینیشن کے لیے سخت اور فوری اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو کارکردگی بہتر بنانے کا انتباہ بھی جاری کیا اور پولیو کے خلاف اقدامات مزید سخت کرنے کا حکم دیا۔

حکام کے مطابق کراچی ڈویژن میں انتظامی کوریج 101 فیصد جبکہ گھر گھر کوریج 97 فیصد رہی اور مسڈ بچوں کی شرح 4.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حیدرآباد ڈویژن میں انتظامی اور گھر گھر دونوں کوریج 99 فیصد رہیں، جبکہ مسڈ بچوں کی شرح 2.4 فیصد رہی۔ میرپورخاص ڈویژن میں انتظامی کوریج 101 فیصد اور گھر گھر کوریج 100 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ مسڈ بچوں کی شرح 2 فیصد رہی۔ لاڑکانو اور سکھر ڈویژنز میں انتظامی اور گھر گھر کوریج 99 فیصد رہی، جبکہ بالترتیب مسڈ بچوں کی شرح 2.2 فیصد اور 2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ شہید بینظیرآباد ڈویژن میں انتظامی اور گھر گھر دونوں کوریج 100 فیصد رہیں، جبکہ مسڈ بچوں کی شرح 1 فیصد رہی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی سطح پر کارکردگی کا مسلسل جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے