کراچی: پاکستانی ماہرینِ امراضِ نسواں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں بلا ضرورت آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کا بڑھتا ہوا رجحان آئندہ حمل میں خواتین کی جان کیلئے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران ایسے خطرناک کیسز میں واضح اضافہ ہوا ہے جن میں بچے کی پیدائش کے بعد نال ماں کی بچہ دانی سے عام طریقے سے الگ نہیں ہو پاتی اور شدید خون بہنے لگتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ زیادہ تر ان خواتین میں سامنے آ رہا ہے جنہوں نے پہلے ایک یا ایک سے زیادہ بار آپریشن کے ذریعے بچے پیدا کیے ہوں۔ بڑے شہروں کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر ایسے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں ماؤں کو فوری طور پر بڑے آپریشن، زیادہ خون لگانے اور طویل علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔
ماہرینِ امراضِ نسواں کے مطابق خاص طور پر پہلی زچگی میں غیر ضروری آپریشن کروانے والی خواتین کو اگلے حمل میں شدید خون بہنے اور بعض صورتوں میں بچہ دانی نکلوانے جیسے خطرناک مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ ماں بننے کے قابل نہیں رہتیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد بچہ دانی پر بننے والا زخم آئندہ حمل میں پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے، کیونکہ نال بعض اوقات اسی زخمی جگہ پر چپک جاتی ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد خود بخود الگ نہیں ہو پاتی۔
ڈاؤ یونیورسٹی کراچی سے وابستہ ڈاکٹر افشاں شاہد کے مطابق وہ اس طرح کے خطرناک کیسز میں واضح اضافہ دیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی نوجوان خواتین درد کے خوف، سہولت یا خاندان کے دباؤ پر بلا ضرورت آپریشن کروا لیتی ہیں، جبکہ انہیں مستقبل میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں مناسب آگاہی نہیں دی جاتی۔
ماہرین کے مطابق ہر بار آپریشن سے بچہ دانی مزید کمزور ہو جاتی ہے اور اگلے حمل میں پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بار بار آپریشن کروانے والی خواتین میں شدید خون بہنے، طویل علاج اور زندگی بھر کے مسائل کا خدشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں آپریشن کے ذریعے ہونے والی زچگی کا مکمل سرکاری ریکارڈ موجود نہیں، تاہم بڑے شہروں اور نجی ہسپتالوں کے اندازوں کے مطابق بعض جگہوں پر ہر دو میں سے ایک سے زیادہ بچے آپریشن سے پیدا ہو رہے ہیں، جسے ڈاکٹر تشویشناک رجحان قرار دے رہے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بلا ضرورت آپریشن نہ ماں کیلئے بہتر ہے اور نہ بچے کیلئے، کیونکہ غیر ضروری آپریشن فوری مسائل کے ساتھ ساتھ آئندہ حمل میں بھی جان لیوا خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
کراچی کی سینئر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کے مطابق بار بار آپریشن کروانے والی خواتین میں اگلے حمل کے دوران سنگین پیچیدگیاں عام ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی خواتین 30 سال کی عمر سے پہلے ہی دو یا تین آپریشن کروا چکی ہوتی ہیں، جو مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ حاملہ خواتین کو آپریشن کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں واضح اور مکمل معلومات دی جائیں، اور نجی ہسپتالوں میں بلا ضرورت آپریشن کے رجحان کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ ماؤں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا بڑھتا ہوا رجحان، جان لیوا پیچیدگیوں کی شرح میں خطرناک اضافہ
