غلط ہیپاٹائٹس سی رپورٹ پر صارف عدالت (کنزیومر کورٹ) کا آغا خان اسپتال پر 16 لاکھ 80 ہزار روپے جرمانہ، فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

کراچی: کراچی کی صارف عدالت (کنزیومر کورٹ) نے آغا خان یونیورسٹی اسپتال پر ایک غلط لیبارٹری رپورٹ کے اجرا پر 16 لاکھ 80 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایک شہری کو ہیپاٹائٹس سی کا مریض ظاہر کرنا سنگین طبی غفلت کے زمرے میں آتا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ شخص شدید ذہنی صدمے، نفسیاتی اذیت اور پیشہ ورانہ مشکلات سے دوچار ہوا۔

 

عدالتی فیصلے کے فوراً بعد آغا خان یونیورسٹی اسپتال نے کہا ہے کہ اس نے صارف عدالت کے فیصلے کا نوٹس لے لیا ہے اور وہ متعلقہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنا قانونی حق استعمال کرے گا۔

 

اسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ چونکہ معاملہ اس وقت قانونی مراحل میں ہے، اس لیے اس پر مزید تبصرہ مناسب نہیں ہوگا، تاہم آغا خان یونیورسٹی اسپتال مریضوں کی دیکھ بھال، تشخیصی معیار اور اخلاقی اصولوں کے اعلیٰ ترین معیارات پر اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

 

یہ فیصلہ صارف عدالت کراچی نے کیس نمبر 25/2021 میں سنایا، جو کراچی کے تاجر سیف الرحمٰن کی جانب سے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کلفٹن میڈیکل سروسز کے خلاف طبی غفلت اور ناقص خدمات کے الزامات کے تحت دائر کیا گیا تھا۔

 

عدالت کو بتایا گیا کہ 25 مارچ 2021 کو آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں کیے گئے خون کے ٹیسٹ میں خون کے غیر معمولی نتائج کے ساتھ ہیپاٹائٹس سی کو ری ایکٹو ظاہر کیا گیا، جس کے بعد درخواست گزار شدید ذہنی دباؤ، نفسیاتی صدمے اور پیشہ ورانہ مشکلات کا شکار ہو گیا۔

 

تاہم بعد ازاں آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں دوبارہ کیے گئے ٹیسٹس اور ڈاؤ ڈائیگناسٹک لیبارٹری میں ہونے والی جانچ کے نتائج مکمل طور پر نارمل آئے اور ہیپاٹائٹس سی کی کوئی تصدیق نہ ہو سکی۔ عدالتی کارروائی کے دوران طبی ماہرین نے بتایا کہ اس نوعیت کے متضاد نتائج سائنسی طور پر ممکن نہیں ہوتے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ کسی بیماری کا نہیں بلکہ لیبارٹری کی سنگین غلطی کا تھا۔

 

بعد ازاں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ غلط رپورٹ نمونوں کے آپس میں تبدیل ہو جانے کے باعث جاری ہوئی، جو لیبارٹری میں ناکافی تصدیقی اور شناختی نظام کا نتیجہ تھی۔

 

صارف عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ سماعت کے دوران اسپتال کی جانب سے کسی مستند لیبارٹری ماہر کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، بلکہ انتظامی عملے کو عدالت میں پیش کیا گیا، جن کے پاس تکنیکی امور سے متعلق کوئی مہارت موجود نہیں تھی، جس سے اسپتال کا مؤقف مزید کمزور ہوا۔

 

فیصلے میں کہا گیا کہ غلط ری ایکٹو ہیپاٹائٹس سی رپورٹ جاری کرنا سنگین غفلت کے مترادف ہے، خاص طور پر ایسے مرض کے حوالے سے جس سے معاشرتی بدنامی، شدید ذہنی دباؤ اور طویل المدتی نفسیاتی اثرات وابستہ ہوتے ہیں۔ صارف عدالت کے مطابق تشخیصی لیبارٹریوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ مریض مکمل طور پر ان کی رپورٹس کی درستگی اور دیانت داری پر انحصار کرتے ہیں۔

 

عدالت نے متاثرہ شہری کو ذہنی اذیت، جذباتی تکلیف اور ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی میں خلل کے ازالے کے لیے 16 لاکھ 80 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایک اہم نظیر قائم کرتا ہے، کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ طبی خدمات بھی صارف تحفظ قوانین کے دائرہ کار میں آتی ہیں اور بڑے اور نامور طبی ادارے بھی تشخیصی ناکامیوں پر جوابدہ ہو سکتے ہیں۔

 

اگرچہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال نے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کیس نے طبی اور ریگولیٹری حلقوں میں لیبارٹری نظم و نسق، معیار کی نگرانی اور مریضوں کے تحفظ سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے