کراچی: کورنگی کے علاقے باغِ کورنگی میں آوارہ کتے کے حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم چھ افراد شدید زخمی ہو گئے، جس کے بعد شہر میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے خطرات پر ایک بار پھر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو ہائی رسک ڈاگ بائٹ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے اور انہیں فوری طور پر ریبیز سے بچاؤ کا مکمل علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کو زخموں کی فوری صفائی کے ساتھ اینٹی ریبیز ویکسین اور ضرورت کے مطابق امیونوگلوبلِن بھی دی گئی ہے۔
انڈس اسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق زیادہ تر متاثرہ بچے ہیں جنہیں چہرے پر شدید زخم آئے، جن میں ناک، ہونٹوں اور آنکھوں کے قریب کاٹنے شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے پر کتے کے کاٹنے کو انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس حصے میں اعصاب اور خون کی نالیاں زیادہ ہوتی ہیں اور دماغ کا فاصلہ بھی کم ہوتا ہے، جس سے ریبیز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے اور علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کا علاج ممکن نہیں، تاہم بروقت ویکسینیشن اور امیونوگلوبلِن کے استعمال سے اس بیماری سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔
حکام کے مطابق حملے کے بعد مشتبہ ریبیز زدہ کتے کو تلاش نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث نگرانی اور بیماری پر قابو پانے کے اقدامات مزید مشکل ہو گئے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ریبیز کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، تاہم کیسز کی بڑی تعداد رپورٹ نہ ہونے کے باعث اصل اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ بڑے شہروں بالخصوص کراچی میں سرکاری اسپتالوں میں ہر سال ہزاروں ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں نمایاں تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کورنگی اور اطراف کے علاقوں میں آوارہ کتوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جو خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں زیادہ جارحانہ ہو جاتے ہیں، جب بچے اسکول جاتے یا گلیوں میں کھیلتے ہیں۔
والدین اور شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ریبیز سے بچاؤ کے لیے صرف کاٹنے کے بعد علاج کافی نہیں بلکہ آوارہ کتوں کی ویکسینیشن، نس بندی، بہتر ویسٹ مینجمنٹ اور عوامی آگاہی پر مشتمل ایک جامع اور مستقل پروگرام ناگزیر ہے۔
کورنگی میں آوارہ کتے کے حملے، بچوں سمیت متعدد افراد شدید زخمی، ریبیز کا خطرہ بڑھ گیا
