عمران خان کی آنکھ کا آپریشن کیا گیا، پمز انتظامیہ کی تصدیق

اسلام آباد: جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ میں خون سپلائی کرنے والی شریان میں رکاوٹ کی تشخیص کے بعد ان کا آنکھ کا آپریشن کر دیا گیا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی انتظامیہ نے جمعہ کی رات جاری بیان میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 74 سالہ عمران خان نے دائیں آنکھ کی نظر کم ہونے کی شکایت کی تھی، جس کے بعد اڈیالہ جیل میں ایک سینئر ماہرِ چشم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ معائنے کے دوران آنکھ کا مکمل چیک اپ کیا گیا، جس میں آنکھ کے اندر دباؤ کی جانچ، مختلف ٹیسٹ اور ریٹینا کا خصوصی اسکین (او سی ٹی) شامل تھا۔

ان معائنوں کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی مرکزی رگ میں رکاوٹ ہے، جسے طبی زبان میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کہا جاتا ہے، اور اسپتال میں علاج کی سفارش کی گئی۔

پمز انتظامیہ کے مطابق عمران خان کو ہفتے کی رات اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے علاج کے طریقۂ کار سے انہیں مکمل طور پر آگاہ کیا۔ بعد ازاں ان کی رضامندی سے آنکھ میں ایک خصوصی انجیکشن دیا گیا۔

بیان کے مطابق آپریشن تھیٹر میں تمام حفاظتی اصولوں کے تحت یہ عمل تقریباً 20 منٹ میں مکمل کیا گیا۔ علاج کے دوران عمران خان کی حالت مستحکم رہی۔

علاج کے بعد عمران خان کو ضروری ہدایات، فالو اپ پلان اور طبی دستاویزات کے ساتھ واپس بھیج دیا گیا۔ پمز نے کہا کہ اس پورے عمل کے دوران مریض کی حالت تسلی بخش رہی۔

یہ طبی وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند دنوں سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث اور قیاس آرائیاں جاری تھیں اور ان کی جماعت کی جانب سے آنکھ کی بیماری کو سنگین قرار دیا جا رہا تھا۔

اس سے قبل شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر نے بھی ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں عمران خان کی آنکھ کی بیماری سے متعلق خبروں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

شوکت خانم ہسپتال نے کہا تھا کہ وہ ان خبروں کی خود تصدیق نہیں کر سکا، تاہم اس نے مطالبہ کیا کہ اس کے ڈاکٹروں کو عمران خان کا معائنہ کرنے اور علاج میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی تشویش دور ہو سکے۔

ہسپتال انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ موجودہ معالجین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر انہیں اعتماد ہے، لیکن شفافیت اور آزاد طبی رسائی ضروری ہے، خاص طور پر جب معاملہ آنکھ جیسی حساس بیماری کا ہو۔

ماہرینِ چشم کے مطابق آنکھ کی اس بیماری میں ریٹینا کو خون پہنچانے والی رگ بند ہو جاتی ہے، جس سے اچانک یا آہستہ آہستہ نظر متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پر بلڈ پریشر، شوگر، دل کی بیماریوں یا خون کے لوتھڑے بننے جیسے عوامل سے جڑا ہوتا ہے، اور بروقت علاج نہ ہو تو بینائی کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جیل میں مکمل اور مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی مجموعی صحت میں کوئی بگاڑ نہیں آیا۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں علاج کی مکمل تفصیلات سامنے لانے اور آزاد طبی جانچ کا مطالبہ کر رہی ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ محدود معلومات شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہیں۔

تاحال حکام کی جانب سے شوکت خانم ہسپتال کی رسائی سے متعلق درخواست پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا، جبکہ پمز کا کہنا ہے کہ تجویز کردہ علاج تمام طبی اصولوں کے مطابق مکمل کر لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے