کراچی: وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکمران ایک مخصوص طبقہ ہے جس سے الحمدللہ میرا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک روپیہ خرچ کیے بغیر پانچویں بار ایوان تک پہنچا، جو دنیا میں ایک مثال ہے۔
وہ لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری میں منعقدہ بین الاقوامی طبی تعلیمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
تقریب میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صحت سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹرز، معزز ماہرین، کالج انتظامیہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بیرونِ ملک جانا برین ڈرین نہیں بلکہ برین ٹرین ہے، کیونکہ جو نوجوان باہر جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ واپس آ کر ملک کی خدمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس نوجوانوں کی ایسی طاقت موجود ہے جو بوجھ نہیں بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔
وفاقی وزیر نے خواتین کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں تعلیم میں بہت آگے ہیں لیکن افسوس کہ 80 فیصد کو تعلیم کے بعد گھروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے معاشرتی رویّوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ میں ساسوں، شوہروں اور ماؤں سے کہتا ہوں کہ بچیوں کو چمٹا ضرور پکڑائیں، لیکن ان سے اسٹیتھ اسکوپ نہ چھینیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت لڑکیوں کی تعلیم پر خطیر رقم خرچ کرتی ہے، جو اس سوچ کے باعث ضائع ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان نے پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور شفاف امتحانی نظام کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں، جن کی بدولت لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری جیسے ادارے عالمی معیار کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
بچیوں کو چمٹا ضرور پکڑائیں، لیکن ان سے اسٹیتھ اسکوپ نہ چھینیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
