دنیا کے با اثر ترین دو فیصد سائنسدانوں میں پاکستانی محققین کتنے اور کون سے ہیں؟

اسلام آباد: عالمی سطح پر تحقیق اور سائنسی اثر و رسوخ کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک اہم اعزاز سامنے آیا ہے جہاں 58 پاکستانی سائنسدانوں کو دنیا کے ٹاپ دو فیصد بااثر محققین میں شامل کیا گیا ہے۔

تازہ ترین عالمی سائیٹیشن امپیکٹ رینکنگ کے مطابق یہ فہرست اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان خاص طور پر صحت اور طبی تحقیق کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام بنا رہا ہے۔

اس فہرست میں پاکستان کے معروف کلینیشن سائنسدان اور ماہرین تعلیم شامل ہیں جن میں نمایاں نام پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار احمد بھٹہ، پروفیسر جاوید اکرم اور پروفیسر عبدالباسط کے ہیں، جن کی تحقیق نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر پبلک ہیلتھ، کلینیکل میڈیسن اور بایومیڈیکل سائنسز پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

رینکنگ نے ایک بار پھر آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے نمایاں کردار کو اجاگر کیا ہے جہاں سے تقریباً 20 سائنسدان اس فہرست میں شامل ہوئے، جو کسی بھی پاکستانی ادارے کی جانب سے سب سے بڑی نمائندگی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کے محققین بالخصوص پبلک ہیلتھ، اطفال، غذائیت، متعدی امراض، وبائیات اور کلینیکل میڈیسن کے شعبوں میں اپنی دہائیوں پر محیط تحقیق اور عالمی اشتراک کے باعث نمایاں رہے۔

نمایاں پاکستانی سائنسدانوں میں ذوالفقار احمد بھٹہ کو ماں اور بچے کی صحت اور غذائیت کے حوالے سے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، جاوید اکرم تعلیمی طب اور صحت کے نظام میں اصلاحات کے لیے جانے جاتے ہیں جبکہ عبدالباسط ذیابیطس اور میٹابولک امراض کے ممتاز ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

فہرست میں شامل دیگر معروف ناموں میں جے کمار داس، ساجد بشیر صوفی، ظفر احمد فاطمی، عمران رشید احمد، فائزہ جہاں، وارث قدوائی، رومینہ اقبال، فرح ناز قمر، محمد عمران نثار، ثمین صدیقی، قرۃ العین قدوائی، تزئین سعید علی اور سلیمہ آر والانی شامل ہیں، جو پاکستان کی عالمی طبی تحقیق میں گہرائی اور وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کے علاوہ دیگر سرکاری و نجی جامعات سے تعلق رکھنے والے سائنسدان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں اعجاز احمد خان اور بابر تسنیم شیخ (ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد)، فاروق اعظم راٹھور اور لیاقت علی (نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز)، سید عامر گیلانی اور اشفاق احمد (یونیورسٹی آف لاہور) اور عرفان اللہ، عمر باچا اور سونیا مختار (یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور) شامل ہیں، جو بحالیاتی سائنسز، پبلک ہیلتھ، فارمیسی اور نفسیات جیسے شعبوں میں نمایاں کام کر رہے ہیں۔

دیگر پاکستانی سائنسدانوں میں محمد عارف ندیم ثاقب اور جمال عبدالناصر (قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد)، محمد عمر اعجاز اور سعدیہ بی بی (یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد)، خالد محمود (بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی)، جنرل رٹائرڈ عامر اکرام (قومی ادارہ صحت)، خضر حیات (یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور) اور غلام حیدر (جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی) شامل ہیں، جو صحت کے ساتھ ساتھ زرعی اور دیگر علوم میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

فہرست میں مزید شامل سائنسدانوں میں غلام مصطفیٰ (نشتر میڈیکل کالج و اسپتال)، محمد ندیم حفیظ (یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر)، طاہر عزیز احمد (نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی)، ثنا اللہ (یونیورسٹی آف ایجوکیشن)، ریحان احمد خان (رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی)، کاشف شفیق (ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز)، نازش عمران (کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی)، عائشہ ہمایوں (شیخ زاید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ)، ضیاء الحق (خیبر میڈیکل یونیورسٹی) اور زہرہ زاہد پیراچہ (انٹرنیشنل سینٹر آف میڈیکل سائنسز ریسرچ) شامل ہیں۔

اس کے علاوہ محمد سائق (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریہیبلیٹیشن میڈیسن)، عنایت علی (فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی)، سہیل اختر (یونیورسٹی آف ہری پور)، سیف اللہ (یونیورسٹی آف چترال)، سید شجاعت علی (یونیورسٹی آف سوات)، محمد شہباز شعیب (یونیورسٹی آف بلوچستان) اور سکندر حیات خان بھی عالمی ٹاپ دو فیصد سائنسدانوں میں شامل ہیں، جو ملک کے تقریباً تمام خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس فہرست میں زیادہ تر پاکستانی سائنسدان صحت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں پبلک ہیلتھ، کلینیکل میڈیسن، غذائیت، اینڈوکرائنولوجی، نفسیات، متعدی امراض، مائیکروبایولوجی اور ہیلتھ پالیسی شامل ہیں، جبکہ کم تعداد میں زرعی، ویٹرنری، فارماکولوجی، بحالیاتی اور رویہ جاتی علوم سے تعلق رکھنے والے محققین بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ عالمی ٹاپ دو فیصد سائنسدانوں کی یہ فہرست ہر سال اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین مرتب کرتے ہیں جو اسکوپس میں شائع ہونے والی تحقیقی اشاعتوں کی بنیاد پر ایک جامع اشاریہ استعمال کرتے ہیں، جس میں مجموعی حوالہ جات، ایچ انڈیکس، مصنف کی حیثیت اور شعبہ جاتی اثر کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

اگرچہ ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ سائیٹیشن پر مبنی رینکنگ تحقیق کے تمام پہلوؤں، جیسے تدریسی معیار یا مقامی پالیسی اثرات، کا مکمل احاطہ نہیں کرتیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے 58 سائنسدانوں کی موجودگی ایک ایسے تحقیقی نظام کے لیے حوصلہ افزا ہے جو محدود وسائل اور فنڈنگ کے باوجود آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر تحقیق میں سرمایہ کاری، بہتر گورننس اور واضح قومی ترجیحات کو یقینی بنایا جائے تو آئندہ برسوں میں عالمی سائنسی رینکنگز میں پاکستان کا کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے