نوجوان ڈاکٹروں کا کارنامہ، چلتی ٹرین میں ڈلیوری کروا دی

کراچی: رحمان بابا ایکسپریس میں سفر کے دوران ایک خاتون نے بچی کو جنم دیا۔ اچانک پیش آنے والی اس ایمرجنسی میں ٹرین میں موجود نوجوان ڈاکٹروں نے ریلوے پولیس کے تعاون سے بروقت مدد فراہم کی، جس کے نتیجے میں ماں اور نومولود دونوں محفوظ رہے۔

یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب انجن کی خرابی کے باعث ٹرین دھابیجی ریلوے اسٹیشن پر کھڑی تھی اور مسافر طویل تاخیر کے باعث پریشانی کا شکار تھے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کینٹ سے ٹنڈوآدم جانے والی ٹرین کی بوگی نمبر آٹھ میں سوار خاتون مسافر کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور اسے شدید دردِ زہ شروع ہو گیا۔ محدود سہولیات، بند ڈبے اور غیر متوقع صورتحال کے باعث چند لمحوں کے لیے ٹرین میں اضطراب کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مسافروں نے فوری طور پر خاتون کے گرد جگہ بنائی اور عملے کو اطلاع دی، جس کے بعد ٹرین میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل شعیب رضا نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر ٹرین میں موجود ڈاکٹروں کو طلب کیا۔

نوجوان ڈاکٹروں نے مشکل حالات کے باوجود پیشہ ورانہ مہارت اور حوصلے کے ساتھ خاتون کی دیکھ بھال شروع کی اور محدود وسائل میں ہی زچگی کا مرحلہ مکمل کروایا۔ کچھ ہی دیر بعد ڈبے میں ایک ننھی جان کی آمد کی خبر پھیلی تو خوف اور بے چینی کی جگہ سکھ کا سانس اور دعاؤں کی صدائیں گونج اٹھیں۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ وہ لمحات ناقابلِ بیان تھے جب ایک غیر یقینی صورتحال میں زندگی نے جنم لیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق ولادت کے بعد خاتون مزید سفر کے قابل نہیں رہی، جس پر ریلوے پولیس نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو طلب کیا۔ ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی اور ابتدائی طبی اقدامات کے بعد خاتون اور نومولود کو اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کی گئی۔ قریبی اسپتال میں سہولت نہ ہونے کے باعث خاتون کے اہلِ خانہ نے ماں اور بچی کو کورنگی کے ایک اسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا۔

ریلوے پولیس حکام کے مطابق واقعے کے دوران مکمل تعاون فراہم کیا گیا اور بروقت اقدامات کی بدولت کسی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ماں اور نومولود بچی دونوں کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق زچگی میں مدد فراہم کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے ہے۔ یہ نوجوان ڈاکٹر ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس سے ڈاکٹر اسامہ امین، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سے سیف اللہ منہاس اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے عبدالحلیم تھے، جو رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے تنظیمی اجتماع میں شرکت کے لیے پشاور جا رہے تھے۔

مسافروں اور ریلوے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اگر ان نوجوان ڈاکٹروں کی بروقت موجودگی اور پیشہ ورانہ مہارت نہ ہوتی تو صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے