اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے تمام سرکاری اور نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے طور پر داخلے نہیں کر سکتے۔
کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی طالب علم کو مقررہ مرکزی داخلہ نظام کے علاوہ داخلہ دیا گیا تو اس کی پی ایم ڈی سی میں رجسٹریشن نہیں کی جائے گی۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز میں داخلے صرف ان جامعات کے ذریعے ہوں گے جنہیں صوبائی حکومتیں باضابطہ طور پر نامزد کرتی ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی بھی کالج، چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی، خود سے داخلہ دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔
کونسل نے واضح کیا ہے کہ تمام داخلے میڈیکل اینڈ ڈینٹل انڈرگریجویٹ ایجوکیشن ریگولیشنز 2025 کے تحت مرکزی اور مرحلہ وار طریقہ کار کے مطابق ہی ہوں گے اور مقررہ تاریخوں کی پابندی لازمی ہوگی۔
ریگولیٹری شیڈول کے مطابق سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلے 31 دسمبر تک مکمل کرنا ہوں گے، جبکہ نجی میڈیکل کالجوں کے لیے آخری تاریخ 31 جنوری مقرر ہے۔ ڈینٹل کالجوں میں سرکاری اداروں کے لیے 15 فروری اور نجی اداروں کے لیے 28 فروری تک داخلے مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پی ایم ڈی سی نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ضابطہ داخلے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری متعلقہ جامعہ اور کالج پر عائد ہوگی، جبکہ متاثرہ طلبہ قانونی طور پر میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم جاری رکھنے کے اہل نہیں رہیں گے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اقدام نجی شعبے میں بے ضابطہ داخلوں، سیٹوں کی غیرقانونی تقسیم اور والدین و طلبہ میں پائی جانے والی الجھنوں کو ختم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پی ایم ڈی سی نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مقررہ دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے قواعد پر سختی سے عمل کریں، بصورت دیگر ادارہ جاتی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے-
ایم ڈی سی کا میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کو ازخود داخلے سے روکنے کا انتباہ، خلاف ورزی پر طلبہ کی رجسٹریشن نہیں ہوگی
