کراچی: سندھ حکومت نے بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہو کر واپس آنے والے افراد کی ایچ آئی وی، تپ دق (ٹی بی) اور ہیپاٹائٹس بی اور سی کی لازمی اسکریننگ کا فیصلہ کر لیا ہے، کیونکہ ہر سال تقریباً 50 ہزار پاکستانی مختلف ممالک سے ڈی پورٹ ہو کر وطن واپس آتے ہیں اور خدشہ ہے کہ غیر تشخیص شدہ مریض خاموشی سے معاشرے میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔
محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر روزانہ اوسطاً 150 سے 200 ڈی پورٹیز مختلف ممالک سے پہنچتے ہیں، جن کی بڑی تعداد ماضی میں کسی باقاعدہ طبی جانچ کے بغیر اپنے علاقوں کو واپس چلی جاتی رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف متاثرہ افراد بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں بلکہ لاعلمی میں اپنے اہل خانہ اور کمیونٹی کے دیگر افراد کو بھی بیماری منتقل کرنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
کراچی ایئرپورٹ پر محکمہ صحت سندھ کے متعدی امراض کے فوکل پرسن ڈاکٹر ظفر مہدی نے بتایا کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ہدایت پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب سندھ میں آنے والے تمام ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی لازمی اسکریننگ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ ماضی میں ایسے کئی کیسز سامنے آئے جن میں متاثرہ افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں تھا اور وہ معمول کی زندگی گزارتے ہوئے دوسروں کو بھی متاثر کر رہے تھے۔
ڈاکٹر ظفر مہدی کے مطابق محکمہ صحت نے اس مقصد کے لیے ایئرپورٹ پر ریپڈ ٹیسٹنگ کٹس، ایکس رے سہولت، حفاظتی سامان اور تربیت یافتہ عملہ تعینات کر دیا ہے تاکہ اسکریننگ کا عمل باعزت انداز میں انجام دیا جا سکے۔ نئے طریقہ کار کے تحت ڈی پورٹ ہونے والے افراد کا فوری ٹیسٹ کیا جائے گا اور جن کے نتائج مثبت آئیں گے، انہیں علاج اور مشاورت کے مراکز سے منسلک کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی ڈی پورٹ ہوکر آنے والا فرد طبی جانچ کے بغیر ایئرپورٹ سے باہر نہ جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عام مسافروں کو بھی رضاکارانہ بنیادوں پر اسکریننگ کی سہولت فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس اقدام کو صرف ڈی پورٹیز تک محدود نہ رکھا جائے۔
محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ماضی میں کچھ حلقے لازمی اسکریننگ کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے امتیازی سلوک کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ میں ایچ آئی وی، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس صورتحال میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق اسکریننگ کے عمل میں رازداری کو یقینی بنایا جائے گا اور مثبت آنے والے افراد کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جائے گی تاکہ انہیں سماجی بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مقصد سزا دینا نہیں بلکہ متاثرہ افراد کو بروقت علاج سے جوڑ کر معاشرے کو مزید پھیلاؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بیرون ملک جانے اور واپس آنے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کے باعث ہوائی اڈے بیماریوں کی نگرانی کے اہم مراکز بن چکے ہیں، لیکن ماضی میں اس پہلو کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی لازمی اسکریننگ سے بیماریوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی اور کمیونٹیز میں انفیکشن کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔
محکمہ صحت کے حکام نے اس امید کا اظہار کیا کہ سندھ کا یہ اقدام دیگر صوبوں کے لیے بھی مثال بنے گا تاکہ ملک بھر میں داخلی راستوں پر بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جا سکے-
