ڈی ریگولیشن کے بعد 55 فیصد ادویات مہنگی، 42 فیصد سستی، صرف 2 فیصد کی قیمت برقرار رہی، ڈریپ سروے

اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے 2024 میں نان ایسنشل ادویات کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ختم کیے جانے کے بعد 55 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 42 فیصد ادویات سستی ہوئیں اور صرف 2 فیصد ادویات کی قیمتیں برقرار رہیں۔

یہ اعدادوشمار جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔ ڈریپ حکام کے مطابق سروے میں 771 ادویات اور برانڈز کا جائزہ لیا گیا جو پاکستان میں فروخت ہونے والی 500 بڑی نان ایسنشل ادویات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سروے کے مطابق 424 ادویات پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی تھیں اور 329 ادویات کی قیمتیں کم ہوئیں۔ صرف 18 ادویات ایسی تھیں جن کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ڈریپ کے اعداد و شمار کے مطابق قیمتوں میں اضافے والی 424 ادویات میں سے 31 ادویات کی قیمتیں 100 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ گئیں۔

اسی طرح 62 ادویات کی قیمتوں میں 50 سے 100 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ 331 ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈریپ کے مطابق بعض ادویات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ سردی، کھانسی اور نزلے میں استعمال ہونے والی کولڈریکس گولیاں، جو پہلے 27 روپے 60 پیسے میں 100 گولیوں کا پیک تھا، اب 475 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔ اس دوا کی قیمت میں 1600 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح کیلشیم اور وٹامن ڈی والی گولیوں کی قیمت 330 روپے سے بڑھ کر تقریباً 1327 روپے ہوگئی۔ الرجی کی دوا “ایول انجیکشن” کی قیمت بھی 432 روپے سے بڑھ کر 1500 روپے تک پہنچ گئی۔

برفین کریم، لیبراکس، پولی فیکس آئی اوئنٹمنٹ، لیکسوبرون سیرپ اور اسٹیمیٹل جیسی ادویات کی قیمتوں میں بھی 180 سے 240 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا گیا۔

ڈریپ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ سروے اس لیے کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ قیمتوں کے کنٹرول ختم ہونے کے بعد ادویات کی اصل مارکیٹ قیمتیں کیا ہیں اور کیا اس فیصلے سے ادویات کی دستیابی بہتر ہوئی یا نہیں۔

حکام کے مطابق پاکستان میں اس وقت 659 دوا ساز کمپنیاں اور 394 درآمد کنندگان کام کر رہے ہیں جبکہ ملک میں ادویات کی سالانہ مارکیٹ ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

حکومت نے 2024 میں نان ایسنشل ادویات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کی تھیں۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ سخت سرکاری کنٹرول کے باعث کئی ادویات مارکیٹ سے غائب ہو رہی تھیں اور کمپنیوں کے لیے ان کی تیاری نقصان دہ بن چکی تھی۔

ڈریپ حکام کا کہنا تھا کہ تمام 771 ادویات سروے کے وقت مارکیٹ میں دستیاب تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی ریگولیشن کے بعد ادویات کی دستیابی میں بہتری آئی، تاہم قیمتوں میں اضافے نے مریضوں کے لیے نئی مشکلات بھی پیدا کی ہیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں