کراچی: بھارت میں نِپاہ وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد سندھ میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ نے نِپاہ وائرس سے متعلق ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں تاحال نِپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
ایڈوائزری کے مطابق نِپاہ وائرس ایک انتہائی جان لیوا زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں اور بعض صورتوں میں انسانوں کے درمیان بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ وائرس شدید سانس کی بیماری اور دماغی سوزش (Encephalitis) کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈی جی ہیلتھ سندھ نے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ضلعی ہیلتھ افسران اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وفاقی وزارتِ صحت اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی جاری کردہ گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ نِپاہ وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، جسم میں درد اور الٹی شامل ہو سکتی ہیں، جبکہ شدید صورت میں مریض کو سانس لینے میں دشواری اور دماغی پیچیدگیاں لاحق ہو سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق وائرس پھیلنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، اس لیے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ سرد موسم میں تازہ پھل اور صحت بخش غذا استعمال کریں، جبکہ کھانے پینے کی اشیا کو اچھی طرح دھو کر استعمال کیا جائے۔
بھارت میں نپاہ وائرس کا پھیلاؤ، محکمہ صحت سندھ نے الرٹ جاری کردیا
