اسلام آباد: بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد وفاقی وزارت صحت نے احتیاطی اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں نیپاہ وائرس کی تشخیص کے لیے ایک سو ٹیسٹنگ کٹس حاصل کر لی ہیں، جبکہ ملک بھر کی سرحدوں، ہوائی اڈوں اور صحت کے نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے،
وفاقی وزارت صحت کے حکام کے مطابق پوائنٹس آف انٹری پر سامنے آنے والے کسی بھی مشتبہ نیپاہ مریض کے نمونے تصدیق کے لیے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھجوائے جائیں گے۔
صحت حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ مریضوں کے گلے اور ناک کے سواب، خون کے نمونے اور دیگر سیمپل سخت بایو سیفٹی اصولوں کے تحت حاصل کیے جائیں گے، جن کی تشخیص رئیل ٹائم آر ٹی پی سی آر کے ذریعے کی جائے گی، جسے نیپاہ وائرس کی شناخت کا عالمی معیار تسلیم کیا جاتا ہے۔
یہ اقدامات بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزریز کے بعد کیے گئے ہیں، جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس ایک انتہائی مہلک زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں اور قریبی انسانی رابطے کے ذریعے پھیل سکتی ہے، جبکہ سرحد پار آمدورفت اس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں تاحال نیپاہ وائرس کا کوئی تصدیق شدہ انسانی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وائرس کی بلند شرح اموات کے پیش نظر بروقت تیاری ناگزیر ہے۔
بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان، جو وزارت قومی صحت کے تحت کام کرتی ہے، نے تمام پوائنٹس آف انٹری پر فوری طور پر سخت اور بہتر ہیلتھ سرویلنس نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے، جس میں بین الاقوامی ہوائی اڈے، سمندری بندرگاہیں اور زمینی سرحدی گزرگاہیں شامل ہیں، اور اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ایڈوائزری کے تحت تمام آنے والے اور ٹرانزٹ مسافروں، عملے، ڈرائیورز اور معاون اسٹاف کی سو فیصد اسکریننگ لازم قرار دی گئی ہے، جبکہ بارڈر ہیلتھ کلیئرنس کے بغیر کسی فرد کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
حکام کے مطابق تمام مسافروں کا تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ کیا جائے گا، جبکہ گزشتہ اکیس دن کی مکمل سفری اور ٹرانزٹ ہسٹری کی تصدیق لازمی ہو گی، چاہے مسافر کی قومیت کچھ بھی ہو۔ نیپاہ سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے یا وہاں سے گزرنے والے مسافروں پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ غلط یا جھوٹی سفری معلومات دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اسکریننگ اسٹاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نیپاہ وائرس کی ابتدائی علامات جیسے بخار، سر درد، سانس کی علامات اور اعصابی مسائل بشمول الجھن، غنودگی یا ہوش میں تبدیلی پر خصوصی توجہ دیں۔
ایڈوائزری کے مطابق کسی بھی فرد میں نیپاہ کے مشتبہ علامات پائے جانے پر اسے فوری طور پر پوائنٹ آف انٹری پر الگ تھلگ کر دیا جائے گا، اس کی آگے نقل و حرکت روک دی جائے گی اور انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول پروٹوکول کے تحت متعلقہ آئسولیشن سہولت یا تیسرے درجے کے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کی جانب سے جاری ایک الگ الرٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں کم از کم پانچ نیپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں کولکتہ کے صحت کے عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔ ایڈوائزری کے مطابق نیپاہ وائرس کی اموات کی شرح چالیس سے پچھتر فیصد تک ہو سکتی ہے اور یہ شدید سانس کی بیماری اور جان لیوا دماغی سوزش کا سبب بنتا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں اب تک کسی انسانی کیس کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم این آئی ایچ نے تمام صوبائی محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ کم از کم ایک تیسرے درجے کے اسپتال یا متعدی امراض یونٹ کو نیپاہ کے مشتبہ مریضوں کے لیے مختص کریں، تربیت یافتہ عملے اور این نائنٹی فائیو ماسکس سمیت حفاظتی سامان کی دستیابی یقینی بنائیں اور ریپڈ ریسپانس ٹیموں کو الرٹ رکھیں۔
این آئی ایچ کے مطابق نیپاہ وائرس عموماً پھل دار چمگادڑوں سے آلودہ خوراک کے استعمال، متاثرہ جانوروں سے براہ راست رابطے یا مریض کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے قریبی انسانی رابطے سے پھیلتا ہے، خاص طور پر اسپتالوں میں۔ ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور قے شامل ہیں، جو تیزی سے دماغی سوزش، دوروں اور کوما میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
نیپاہ وائرس کی انکیوبیشن مدت عام طور پر چار سے چودہ دن ہوتی ہے، تاہم بعض کیسز میں یہ پینتالیس دن تک بھی ہو سکتی ہے، جس سے سرحد پار خاموش منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وائرس کی تصدیق کے لیے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کیا جاتا ہے، جبکہ تمام نمونوں کو سخت کولڈ چین اور بایو سیفٹی اصولوں کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد منتقل کیا جاتا ہے۔
صحت حکام کے مطابق اس وقت نیپاہ وائرس کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص اینٹی وائرل علاج دستیاب نہیں، جبکہ مریضوں کا علاج زیادہ تر معاون نگہداشت پر مشتمل ہوتا ہے اور شدید کیسز میں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ریباویرین کے مؤثر ہونے کے شواہد غیر حتمی قرار دیے گئے ہیں۔
ایڈوائزریز کے مطابق ملک بھر کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز کو واچ موڈ پر رکھا گیا ہے، تمام پوائنٹس آف انٹری سے روزانہ کیس یا نِل رپورٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے اور نگرانی یا انفیکشن کنٹرول میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو سنگین غفلت تصور کیا جائے گا۔
اگرچہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھارت میں موجود کیسز سے عالمی سطح پر پھیلاؤ کا خطرہ فی الحال کم ہے، تاہم وفاقی صحت حکام کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور تیاری ہی ممکنہ بحران سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔
دونوں ایڈوائزریز صوبائی محکمہ صحت، بارڈر حکام اور صحت کے مراکز کو جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی حدود میں کیے گئے احتیاطی اور تیاری کے اقدامات سے وفاقی حکومت کو آگاہ رکھیں۔
