اسلام آباد: وفاقی علاقوں خصوصاً دارالحکومت اسلام آباد میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد سن دو ہزار پچیس کے اختتام تک بڑھ کر تقریباً چار ہزار آٹھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ چھ ماہ میں مزید تین سو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صحت حکام نے خبردار کیا ہے کہ علاج سے محروم مریضوں کی بڑی تعداد خاموشی سے وائرس کو عام آبادی میں منتقل کر رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ دباؤ اسلام آباد میں دیکھا جا رہا ہے۔
وزارتِ قومی صحت کے حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد وفاقی علاقوں میں رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی کیسز کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا ہے، جس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے وہ مریض بھی شامل ہیں جو علاج کے لیے وفاقی نظام سے رجسٹرڈ ہیں۔
حکام نے بتایا کہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہر ماہ اوسطاً پچاس نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں سے اسی فیصد سے زائد صرف اسلام آباد سے سامنے آتے ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق سب سے تشویش ناک پہلو مریضوں کی عمر ہے، کیونکہ حالیہ کیسز میں تقریباً ساٹھ فیصد نوجوان شامل ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کے ایچ آئی وی رجسٹریشن کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق اکتیس دسمبر دو ہزار پچیس تک چار ہزار سات سو چھپن افراد ایچ آئی وی کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جن میں رواں سال کے دوران سامنے آنے والے اضافی تین سو کیسز بھی شامل ہیں۔
رجسٹرڈ مریضوں کی تفصیل کے مطابق چونتیس سو بتیس بالغ مرد، آٹھ سو پانچ بالغ خواتین، چار سو بائیس خواجہ سرا، سڑسٹھ لڑکے اور تیس لڑکیاں شامل ہیں، جس سے وفاقی علاقوں میں مجموعی تعداد چار ہزار سات سو چھپن ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ان افراد پر مشتمل ہیں جو کسی مرحلے پر صحت کے نظام تک پہنچے، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بدنامی اور خوف کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اسکریننگ نہیں کرواتے۔
وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ زیادہ تر مریض وہ ہیں جو رضاکارانہ طور پر ٹیسٹ کے لیے آئے یا کسی اور بیماری کے علاج کے دوران ان میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ ان کے مطابق زیادہ خطرے سے دوچار طبقات میں اسکریننگ بڑھانے کی کوششیں انسانی حقوق کے حوالے سے اختلافات کا شکار رہتی ہیں، جس سے بروقت تشخیص اور علاج میں تاخیر ہوتی ہے۔
اعداد و شمار علاج کے حوالے سے ایک سنگین کمی اور کوتاہی کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ وفاقی نظام میں رجسٹرڈ چار ہزار سات سو چھپن مریضوں میں سے صرف دو ہزار دو سو ستاون افراد کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے، یعنی معلوم مریضوں میں سے صرف تقریباً سینتالیس فیصد علاج پر ہیں، جبکہ نصف سے زیادہ زندگی بچانے والی دوا سے محروم ہیں۔
علاج حاصل کرنے والوں میں سب سے بڑی تعداد بالغ مردوں کی ہے جن کی تعداد چودہ سو بانوے ہے، اس کے بعد چار سو پچانوے بالغ خواتین اور ایک سو چورانوے خواجہ سرا شامل ہیں، جبکہ بچوں میں پچاس لڑکے اور چھبیس لڑکیاں علاج پر ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ علاج نہ ہونے والے مریض عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں کیونکہ ان میں وائرس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور وہ دوسروں کو منتقل کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق جب بڑی تعداد علاج سے باہر رہتی ہے تو بیماری کسی ایک گروہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ بتدریج عام آبادی میں پھیلنے لگتی ہے۔
اسلام آباد میں کیسز میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ سب سے زیادہ منتقلی ایسے مردوں میں دیکھی جا رہی ہے جو مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں، جبکہ اس کے بعد غیر محفوظ طبی طریقہ کار ایک بڑی وجہ ہیں۔ ناقص انفیکشن کنٹرول، سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور غیر تربیت یافتہ افراد کے زیرِ انتظام کلینکس کو بھی اہم عوامل قرار دیا گیاہے۔
حکام نے نشہ آور اشیا کے استعمال سے جڑے پرخطر جنسی رویوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور بتایا کہ دارالحکومت میں منشیات کے زیرِ اثر جنسی سرگرمیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے غیر محفوظ تعلقات اور متعدد شراکت داروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اگرچہ اسلام آباد میں رپورٹ ہونے والے کیسز دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ بہتر تشخیصی اور ٹیسٹنگ سہولیات بھی ہیں۔ ان کے مطابق یہاں بھی بدنامی ایک بڑی رکاوٹ ہے اور بہت سے لوگ شدید بیمار ہونے کے بعد ہی سامنے آتے ہیں، جس سے وبا کی تشخیص تاخیر سے ہوتی ہے۔
وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے خفیہ ٹیسٹنگ کی سہولیات میں توسیع، علاج سے فوری ربط، سرکاری اور نجی صحت مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل اور غیر محفوظ عطائی کلینکس کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ حکام نے زیادہ خطرے سے دوچار طبقات کی اسکریننگ پر شواہد پر مبنی سنجیدہ بحث کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ حساسیت کے نام پر تشخیص میں تاخیر بالآخر کمزور طبقات اور پوری آبادی دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے-
