اسلام آباد: بارباڈوس، کیوبا، قبرص، ڈومینیکن ری پبلک، جارجیا، فلپائن، سینٹ لوشیا اور سوڈان سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والا ایک بھی پاکستانی گریجویٹ دسمبر 2025 میں منعقدہ نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (این آر ای) اسٹیپ ون پاس نہ کر سکا۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے اعدادوشمار اور نتائج کے مطابق بیرون ملک سے میڈیکل ڈگری لینے والے ڈاکٹروں میں مجموعی طور پر صرف ہر پانچ میں سے ایک امیدوار کامیاب ہو سکا، جس سے درجنوں ممالک میں دی جانے والی میڈیکل تعلیم کے معیار پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ آٹھ ممالک سے ایک بھی امیدوار کا پاس نہ ہونا انفرادی ناکامی نہیں بلکہ بیرون ملک طبی تعلیمی نظام کی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن اسٹیپ ون میں مجموعی طور پر 7,076 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے صرف 1,473 کامیاب جبکہ 5,603 ناکام ہوئے۔ اس طرح مجموعی کامیابی کی شرح 20.8 فیصد رہی۔
اعدادوشمار میں ان ممالک کی کارکردگی بھی انتہائی تشویشناک قرار دی گئی ہے جہاں ہزاروں پاکستانی طلبہ میڈیکل تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کرغزستان سے سب سے زیادہ 4,256 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں سے صرف 951 کامیاب ہو سکے، یعنی کامیابی کی شرح تقریباً 22 فیصد رہی۔
چین سے 2,154 امیدواروں میں سے 333 کامیاب ہوئے، جو محض 15.5 فیصد بنتی ہے اور بڑے ممالک میں یہ سب سے کم شرح رہی۔
وسطی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی نتائج حوصلہ افزا نہ رہے۔ قازقستان سے 174 میں سے 54 امیدوار کامیاب ہوئے، ازبکستان سے 116 میں سے 35، جبکہ تاجکستان سے 91 میں سے صرف 30 امیدوار پاس ہو سکے۔
روس سے امتحان دینے والے 16 امیدواروں میں سے صرف دو کامیاب ہوئے۔
جنوبی ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک میں افغانستان سے 160 امیدواروں میں سے 18 کامیاب ہوئے، یوکرین سے 14 میں سے دو، ملائشیا اور بیلاروس سے تین، تین امیدواروں میں سے ایک ایک امیدوار پاس ہوا۔
اس کے برعکس چند ممالک میں جہاں امیدواروں کی تعداد بہت کم تھی، کامیابی کی شرح زیادہ رہی، تاہم حکام نے ان نتائج کو شماریاتی طور پر غیر اہم قرار دیا ہے۔
بنگلہ دیش سے 11 میں سے 10 امیدوار کامیاب ہوئے، ایران سے 39 میں سے 20، جبکہ بحرین، سعودی عرب، ہنگری، پولینڈ، رومانیہ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے ایک سے تین امیدواروں نے سو فیصد کامیابی حاصل کی۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ ناکامیوں کا بڑا بوجھ انہی ممالک میں مرکوز ہے جہاں پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد داخل ہے اور جہاں داخلہ ایجنٹس اور نجی ادارے محدود نگرانی میں سرگرم ہیں۔
ان کے مطابق این آر ای اسٹیپ ٹو، جو کلینیکل صلاحیت کا امتحان ہے، میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے اور اسٹیپ ون پاس کرنے والوں میں سے بھی نصف سے زائد کے ناکام ہونے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق متعدد امیدوار بنیادی تصورات، کلینیکل ریژننگ اور مریضوں کے علاج سے متعلق مہارت میں کمزور پائے گئے ہیں۔
پی ایم ڈی سی بارہا خبردار کر چکا ہے کہ ناقص تربیت یافتہ غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس ملک کی صحت عامہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سرکاری اسپتال پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ریگولیٹرز نے اس بحران کے معاشی پہلو کی بھی نشاندہی کی، جس کے مطابق پاکستانی خاندان ہر سال بیرون ملک میڈیکل تعلیم پر سینکڑوں ملین ڈالر خرچ کرتے ہیں، جس سے قیمتی زر مبادلہ ضائع ہوتا ہے جبکہ کئی طلبہ کو ایسی تربیت ملتی ہے جو کم از کم پیشہ ورانہ معیار پر بھی پوری نہیں اترتی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ این آر ای کے تفصیلی نتائج پالیسی سازوں، والدین اور طلبہ کے لیے وارننگ ہیں، اور اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ غیر ملکی میڈیکل اداروں کی سخت نگرانی کی جائے، گمراہ کن داخلہ ایجنٹس کے خلاف کارروائی ہو، اور پاکستان میں پریکٹس کی اجازت دینے سے قبل گریجویٹس کی جانچ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
