کراچی: نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات نے ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کر لی ہے، جہاں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (انڈس ہسپتال) کے کورنگی کیمپس میں صرف 2026 کے پہلے پانچ دنوں کے دوران 300 افراد کو کتے کے کاٹنے کے بعد لایا گیا، جن میں اکثریت پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔
ہسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق تمام چہرے پر کاٹنے کے کیسز دو سال سے کم عمر بچوں کے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ننھے بچے آوارہ کتوں کے حملوں کے سامنے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ یہ واقعات کورنگی، لانڈھی، بلدیہ، گڈاپ ٹاؤن اور حب چوکی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں رپورٹ ہوئے، جہاں ممکنہ طور پر ریبیز سے متاثرہ آوارہ کتے گھوم رہے تھے۔
انڈس ہسپتال میں شعبۂ متعدی امراض کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے ان اعداد و شمار کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال بچوں کو ایک مکمل طور پر قابلِ بچاؤ مگر جان لیوا بیماری کے خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض اعداد نہیں بلکہ کمسن بچے اور شیر خوار ہیں جنہیں چہرے اور ہاتھوں پر کاٹا جا رہا ہے، اور ہر ڈاگ بائٹ کو طبی ایمرجنسی سمجھنا چاہیے۔
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے مطابق ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بچنے کا کوئی امکان نہیں رہتا، تاہم بروقت علاج سے اس بیماری سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاخیر، گھریلو ٹوٹکوں یا روایتی علاج پر انحصار جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ہسپتال ریکارڈ کے مطابق تمام 300 مریضوں کو عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات کے مطابق ریبیز سے بچاؤ کا علاج فراہم کیا گیا۔ ان مریضوں میں ایک 41 سالہ شخص بھی شامل تھا جس کے زخم اتنے شدید تھے کہ ڈاکٹروں کو اس کی ایک انگلی کاٹنی پڑی، تاہم سب سے زیادہ تشویش ناک کیسز کمسن بچوں کے تھے جنہیں چہرے پر کاٹا گیا، کیونکہ ایسے زخموں میں بیماری کے تیزی سے دماغ تک پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں چھ لاکھ سے زائد افراد آوارہ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے، جن میں سندھ کا حصہ سب سے زیادہ رہا۔ کراچی میں ہی ایک لاکھ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ناقص کچرا انتظام، مربوط ویکسینیشن اور نس بندی کے پروگرامز کی عدم موجودگی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق علاج جانیں بچاتا ہے، مگر اصل حل روک تھام ہے، ورنہ کراچی کے بچے اسی طرح آوارہ کتوں کے رحم و کرم پر رہیں گے
2026 کے پہلے پانچ دنوں میں کراچی میں 300 بچے آوارہ کتوں کا نشانہ بن گئے
