اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری سے وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس 2025 کے تحت ایک طاقتور نئی پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کر دیا ہے، جو اب ملک بھر میں نرسنگ اور دائیوں کی تعلیم، رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے تمام معاملات کی نگرانی اور ضابطہ بندی کرے گی۔
13 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے ذریعے وزارتِ صحت نے آرڈیننس کی شق 4 کے تحت کونسل کے ارکان کے ناموں کی منظوری اور تقرری کی، جس کے بعد یہ نیا ریگولیٹری ادارہ عملی طور پر فعال ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کئی برس بعد پہلا موقع ہے کہ نرسنگ اور مڈوائفری کے شعبے کے لیے ایک مکمل طور پر قانونی اور فعال قومی کونسل قائم ہوئی ہے۔
نیا آرڈیننس اس مقصد کے تحت نافذ کیا گیا کہ پرانے اور بکھرے ہوئے ریگولیٹری نظام کی جگہ ایک مضبوط قومی ادارہ قائم کیا جائے جو نرسنگ اور مڈوائفری تعلیمی اداروں کی منظوری، نرسوں اور دائیوں کی رجسٹریشن اور پیشہ ورانہ معیار کی نگرانی کر سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں اور وفاق کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر یکساں قوانین نافذ کرنا اور ریگولیٹر کو واضح قانونی اختیارات دینا ہے۔
نوٹیفائی کی گئی کونسل میں وفاقی اور صوبائی سطح پر اعلیٰ ترین حکام شامل ہیں۔ ایکس آفیشیو ارکان میں وزارتِ قومی صحت کے اسپیشل سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کوالٹی ایشورنس، آرمڈ فورسز نرسنگ سروسز کے چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ اور پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل نرسنگ شامل ہیں۔ اس انتظام کے تحت ملک بھر میں نرسنگ اور مڈوائفری تعلیم اور ریگولیشن براہ راست اعلیٰ ترین سرکاری اداروں کی نگرانی میں آ گئی ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نے پیشہ ورانہ نمائندگی کے لیے نامزد ارکان کی بھی منظوری دی ہے، جن میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے نرسنگ کالجز کے پرنسپلز، بلوچستان سے ایک سینئر مڈوائف اور کراچی سے ایک فلاحی نمائندہ شامل ہیں، تاکہ انتظامی اور پیشہ ورانہ توازن برقرار رکھا جا سکے۔
یہ نوٹیفکیشن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے نرسنگ شعبے پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں بار بار جعلی اور غیر معیاری نرسنگ کالجز، معائنوں میں ہیرا پھیری اور رجسٹریشن و لائسنس کی غیر قانونی فروخت کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث ہزاروں طلبہ کی ڈگریوں اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور اسپتالوں میں نرسنگ خدمات کے معیار پر بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ نئی کونسل کو اب قانونی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر قانونی اداروں کو بند کرے، جعلی رجسٹریشن منسوخ کرے اور تعلیمی معیار کو سختی سے نافذ کرے۔ تاہم نرسنگ تنظیمیں اور طلبہ کہتے ہیں کہ اصل امتحان یہی ہوگا کہ آیا ان اختیارات کو تیزی اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے یا نہیں۔
وزیراعظم کی منظوری سے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کے باضابطہ طور پر فعال ہونے کے بعد اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ نیا ادارہ نرسنگ کے شعبے میں ساکھ بحال کر سکے گا، طلبہ اور مریضوں کا تحفظ یقینی بنائے گا اور ایک طویل عرصے سے جاری بے ضابطگیوں کا خاتمہ کر پائے گا-
وزیراعظم کی منظوری سے طاقتور پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل قائم، نرسنگ تعلیم اور رجسٹریشن کی نگرانی کرے گی
