کراچی کی پٹھان کالونی میں ایچ آئی وی سے 70 بچوں کے متاثر ہونے، 5 کی ہلاکت کا دعویٰ

کراچی: کیماڑی ٹاؤن کی یوسی 1 پٹھان کالونی میں مقامی حکومت کے نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ علاقے میں ایچ آئی وی سے کم از کم 70 بچے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے پانچ بچوں کے انتقال کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ متاثرہ بچوں کی عمریں چند ماہ سے لے کر پانچ سال تک بتائی جا رہی ہیں۔

تاہم ان دعوؤں کی تاحال نہ تو سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے تصدیق کی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت کے صحت حکام کی جانب سے ان اعداد و شمار کی باضابطہ توثیق سامنے آئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ اور دستیاب معلومات کی تصدیق کے بعد ہی کوئی حتمی مؤقف اختیار کیا جا سکے گا۔

یوسی 1 پٹھان کالونی کے وائس چیئرمین ارشد خان نے وفاقی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر ولی خان سے ملاقات کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے نام ایک تحریری درخواست جمع کرائی ہے، جس میں علاقے میں ایچ آئی وی کے مبینہ پھیلاؤ اور بچوں کے متاثر ہونے سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹھان کالونی اور اس کے اطراف میں غیر قانونی اور غیر تربیت یافتہ دائیوں اور اتائیوں کی بڑی تعداد سرگرم ہے، جو زچگی اور بچوں کے علاج کے دوران غیر محفوظ طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ وائس چیئرمین نے الزام عائد کیا ہے کہ علاقے میں قائم سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی اسپتال میں ایک ہی سرنج متعدد بچوں کو لگائے جانے اور غیر معیاری طبی آلات کے استعمال سے ایچ آئی وی جیسی موذی بیماری پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

ارشد خان کے مطابق 70 متاثرہ بچوں کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے جبکہ مجموعی طور پر متاثرہ بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرنے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ بچوں کے انتقال کی اطلاعات بھی اہل خانہ کی جانب سے دی گئی ہیں، جنہوں نے طبی غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ متعدد متاثرہ بچے تشویشناک حالت میں مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، تاہم علاقے میں ایچ آئی وی کی اسکریننگ، بروقت تشخیص اور علاج کے لیے کوئی منظم اور جامع نظام موجود نہیں، جس کے باعث والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

وائس چیئرمین نے وفاقی وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹھان کالونی میں فوری طور پر ایچ آئی وی اسکریننگ کیمپ قائم کیے جائیں، غیر قانونی کلینکس اور اتائیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ بچوں کے لیے مفت اور معیاری علاج کی سہولت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور مزید بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ دوسری جانب، پٹھان کالونی کے مکینوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں صحت کی بنیادی سہولیات بہتر بنائی جائیں اور بچوں کی بڑے پیمانے پر اسکریننگ کے ذریعے ایچ آئی وی کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے