کراچی: ایسے وقت میں جب پاکستان میں دل کے جدید علاج پر عام طور پر لاکھوں روپے خرچ آتے ہیں اور کئی خاندان علاج کی استطاعت نہ ہونے کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب نے سال دو ہزار پچیس کے دوران سولہ لاکھ سے زائد مریضوں کو مکمل طور پر مفت دل کا علاج فراہم کر کے ایک غیر معمولی مثال قائم کی ہے۔
ادارے کی سالانہ کارکردگی کے مطابق کراچی میں قائم یہ سرکاری دل کا اسپتال ایمرجنسی انجیوپلاسٹی سے لے کر پیچیدہ اوپن ہارٹ سرجریوں اور مہنگے والو کے علاج تک تمام سہولیات بلا معاوضہ فراہم کرتا رہا، جس سے ملک بھر سے آنے والے مریض مستفید ہوئے۔
سال کے دوران قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کراچی میں نو ہزار دو سو پانچ پرائمری انجیوپلاسٹیز اور چھ ہزار چار سو بیالیس ابتدائی اور انتخابی انجیوپلاسٹیز کی گئیں، جبکہ اٹھارہ ہزار سات سو سے زائد انجیوگرافیز انجام دی گئیں۔ نجی اسپتالوں میں یہی علاج عام طور پر لاکھوں روپے میں ہوتا ہے، جو زیادہ تر خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔
بچوں کے دل کے علاج کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ اسپتال میں تین ہزار ایک سو انچاس بچوں کے کیتھیٹرائزیشن اور دیگر مداخلتی طریقۂ علاج کیے گئے جبکہ دو سو پچاسی پی ٹی ایم سی پروسیجرز انجام دیے گئے، جس سے سینکڑوں بچوں کی زندگیاں بچائی گئیں۔
دنیا کے مہنگے ترین دل کے علاج میں شمار ہونے والا ٹرانس کیتھیٹر آؤرٹک والو امپلانٹیشن بھی قومی ادارہ برائے امراضِ قلب میں مفت کیا گیا۔ دو ہزار پچیس کے دوران اکتالیس ایسے پروسیجرز انجام دیے گئے، جن میں سے ہر ایک پر تقریباً چالیس لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ یہ تمام علاج حکومت سندھ کے تعاون سے شدید بیمار مریضوں کو بلا معاوضہ فراہم کیے گئے۔
اسی عرصے میں اسپتال میں ایک ہزار پانچ سو سڑسٹھ بالغ مریضوں کی اوپن ہارٹ سرجریاں اور ایک ہزار دو سو اکتیس بچوں کی اوپن ہارٹ سرجریاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ چھیاسٹھ فالج کے مریضوں کا جدید طریقوں سے علاج کیا گیا، جبکہ نو سو چونسٹھ عارضی پیس میکر اور ایک ہزار ایک سو سڑسٹھ مستقل پیس میکر لگائے گئے، جو نجی شعبے میں انتہائی مہنگا علاج تصور کیا جاتا ہے۔
روزمرہ طبی سہولیات کا حجم بھی غیر معمولی رہا۔ اسپتال میں چار لاکھ پینتالیس ہزار سے زائد بالغ اور بچوں کے او پی ڈی وزٹس ریکارڈ ہوئے، اٹھاسی ہزار چار سو چوراسی ایکو کارڈیوگرافی ٹیسٹ کیے گئے اور چون ہزار ایک سو اکتیس مریضوں کو داخل کر کے علاج فراہم کیا گیا، جبکہ ایمرجنسی دل کی سہولیات چوبیس گھنٹے بلا معاوضہ جاری رہیں۔
قومی ادارہ برائے امراضِ قلب نے صرف سندھ تک محدود رہنے کے بجائے ایک قومی ریفرل مرکز کے طور پر خدمات انجام دیں۔ دو ہزار پچیس میں سندھ سے باہر کے ایک لاکھ اٹھاون ہزار سے زائد مریضوں نے کراچی میں اس ادارے سے مفت علاج حاصل کیا، جن میں بلوچستان کے ایک لاکھ نو ہزار سے زائد مریض، پنجاب کے پینتیس ہزار سے زیادہ، خیبر پختونخوا کے تقریباً گیارہ ہزار چھ سو مریض جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مریض بھی شامل تھے۔
ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کے مطابق یہ کارکردگی حکومت سندھ کی مسلسل سرپرستی اور تعاون کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ادارہ برائے امراضِ قلب دل کے تمام بڑے علاج، جن میں سرجریاں، انجیوپلاسٹیز، فالج کا علاج اور جدید تشخیصی سہولیات شامل ہیں، پورے ملک کے مریضوں کو مکمل طور پر مفت فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو دیکھتے ہوئے ایک نیا او پی ڈی بلاک بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی مریض کو مالی مجبوری کی وجہ سے معیاری دل کے علاج سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔
ایسے حالات میں جب دل کے علاج پر آنے والے اخراجات ہزاروں خاندانوں کو قرض اور غربت کی طرف دھکیل دیتے ہیں، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کا یہ ماڈل ایک اہم عوامی سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا پاکستان صحت کے دیگر شعبوں میں بھی اسی طرز کا نظام قائم کر سکتا ہے۔
انجیوپلاسٹی، اوپن ہارٹ سرجری، والوز کی تبدیلی سب مفت: این آئی سی وی ڈی میں ایک سال میں 16لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج
