اسلام آباد: ملک میں منکی پاکس کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آنے کے باوجود پنجاب کا محکمہ صحت مریضوں کی مکمل تفصیلات وفاقی حکام کے ساتھ شیئر کرنے پرُرضامند نہیں، جس سے بیماری کی نگرانی، پھیلاؤ پر قابو پانے اور عالمی رپورٹنگ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
وفاقی صحت حکام کے مطابق پنجاب میں رپورٹ ہونے والے کئی کیسز مقامی منتقلی یا لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں، جن میں مریضوں کی کوئی حالیہ بیرون ملک سفری تاریخ موجود نہیں، مگر اس کے باوجود ڈیٹا مرکز کو فراہم نہیں کیا جا رہا، خاص طور پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ / NIH) اسلام آباد کو۔
وفاقی وزارت صحت کے پاس موجود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 18 اپریل 2023 سے 31 دسمبر 2025 تک پاکستان میں منکی پاکس کے 57 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہلاکت بھی شامل ہے۔
اب تک پنجاب میں سب سے زیادہ 23 کیسز سامنے آئے، اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 22 کیسز اور ایک ہلاکت، اسلام آباد میں چھ، سندھ میں تین، آزاد جموں و کشمیر میں دو اور بلوچستان میں ایک کیس رپورٹ ہوا، جبکہ گلگت بلتستان سے سرکاری طور پر کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب کے کیسز کی اصل نوعیت اور تعداد کی تصدیق اس لیے ممکن نہیں ہو پا رہی کیونکہ صوبے نے مریضوں کی تفصیلی معلومات، لیبارٹری رپورٹس، رابطوں کی تاریخ اور وبائی تحقیق کی تفصیلات باضابطہ طور پر مرکز کو فراہم نہیں کیں۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ پنجاب میں سامنے آنے والے کئی کیسز مقامی سطح پر منتقل ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیماری کمیونٹی میں پھیل رہی ہے، نہ کہ صرف بیرون ملک سے آنے والے مریضوں تک محدود ہے۔
وفاقی وزارت صحت کے سینئر حکام کے مطابق دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں منکی پاکس کی مقامی منتقلی جاری ہے، خاص طور پر مردوں میں جو مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں، ایک ایسا گروہ جو عالمی سطح پر منکی پاکس کے حالیہ پھیلاؤ کے دوران زیادہ متاثر رہا ہے۔
وفاقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لاہور کے میو اسپتال (Mayo Hospital) میں اس وقت کم از کم دو سے چار منکی پاکس کے مریض زیر علاج ہیں، تاہم ان مریضوں کی بیماری کی شدت، انفیکشن کے ذرائع، رابطوں کی تفصیلات اور لیبارٹری نتائج باضابطہ طور پر این آئی ایچ (NIH) اسلام آباد کو فراہم نہیں کیے گئے۔ اس کے باعث بیماری کے پھیلاؤ کے انداز اور آئندہ خطرات کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہو رہا۔
حکام کے مطابق پنجاب کے محکمہ صحت نے غیر رسمی طور پر وفاقی حکومت سے منکی پاکس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹنگ کٹس، اینٹی وائرل دوا ٹیکوویرامیٹ اور علاج سے متعلق رہنما اصول فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، مگر اس کے ساتھ مریضوں کی مکمل کیس لسٹ، وبائی تحقیق اور تفصیلی ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا، جو قومی سطح پر نگرانی اور ردعمل کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ایک سینئر وفاقی اہلکار نے بتایا کہ منکی پاکس ایک قابل اطلاع بیماری ہے اور قانون کے تحت ہر تصدیق شدہ کیس کی رپورٹ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ / NIH) اسلام آباد کو دینا لازم ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبے بروقت اور مکمل معلومات فراہم نہ کریں تو قومی نگرانی کا پورا نظام متاثر ہو جاتا ہے اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ اس حوالے سے تعاون نہیں کر رہا۔
وفاقی حکام نے زور دیا کہ وائرس کی جینیاتی جانچ نہایت اہم ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملک میں کون سا وائرس گردش کر رہا ہے اور آیا اس میں کوئی نمایاں تبدیلی تو نہیں آئی۔ ان کے مطابق یہ جانچ پاکستان کی عالمی ذمہ داریوں، خصوصاً عالمی ادارۂ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن / WHO) کو بروقت اور درست رپورٹنگ کے لیے بھی ضروری ہے، مگر پنجاب سے نمونے اور مکمل ڈیٹا نہ ملنے کے باعث یہ عمل ممکن نہیں ہو پا رہا۔
وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ دیگر تمام صوبے اور وفاقی علاقے باقاعدگی سے انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ ریسپانس کے تحت اپنا ڈیٹا مرکز کو فراہم کرتے ہیں، جبکہ پنجاب اس حوالے سے باقاعدگی نہیں دکھا رہا اور کبھی کبھار صرف چند بیماریوں کی ایک محدود فہرست بھیج دیتا ہے، جسے مؤثر اور بروقت نگرانی نہیں سمجھا جاتا۔
صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب کے سیکرٹری صحت کو باضابطہ خط لکھا جائے گا، جس میں منکی پاکس کے تمام کیسز کی فوری اور مکمل تفصیلات فراہم کرنے اور تمام قابل اطلاع بیماریوں کا ڈیٹا باقاعدگی سے شیئر کرنے پر زور دیا جائے گا تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
پنجاب کے محکمہ صحت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کے حکام سے اس حوالے سے بارہا مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل کیے جانے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا
پاکستان میں ایم پاکس/منکی پاکس کیسز کی تعداد 57 ہوگئی، پنجاب 23 کیسز کے ساتھ سرفہرست
