کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے شعبہ ایمرجنسی کے باہر ایمبولینس کھڑی کرنے کے معاملے پر ڈاکٹرز اور ایمبولینس ڈرائیورز کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں دو ڈاکٹرز زخمی ہوگئے، ڈاکٹرز پر تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔
فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ایمبولینس ڈرائیور ڈاکٹر پر حملہ کرتا ہے، جس کے بعد دیگر ڈرائیورز بھی وہاں پہنچ کر تشدد میں شریک ہوجاتے ہیں۔ ایک اور ڈاکٹر اپنے ساتھی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے میں دو ڈاکٹرز زخمی ہوئے ہیں۔ ایک ڈاکٹر کے بازو میں فریکچر ہوا ہے، جبکہ دوسرے ڈاکٹر کی آنکھ متاثر ہوئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے جناح اسپتال کے سرجیکل کمپلیکس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ڈاکٹرز پر تشدد کی شدید مذمت کی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔
ینگ ڈاکٹرز کے مطابق ایک ڈاکٹر کا بازو ٹوٹ گیا ہے اور اس کے جسم پر متعدد چوٹیں آئی ہیں، جبکہ دوسرے ڈاکٹر کی ایک آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہوئی ہے اور وہ تقریباً بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے واقعے کو اسپتال کے سیکیورٹی نظام کی ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف ناقابلِ ضمانت دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں فوری گرفتار کیا جائے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو او پی ڈیز اور انڈور وارڈز کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ ینگ ڈاکٹرز نے واقعے کی ذمہ داری اسپتال کے سیکیورٹی انچارج پر عائد کرتے ہوئے سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔