کراچی: پاکستان میں انتہائی مہنگی ادویات کے باعث بریسٹ کینسر کا علاج بیشتر مریضوں کی پہنچ سے باہر ہے جبکہ بیماری کی تشخیص میں تاخیر ان کی جانیں بچانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے-
ماہرین امراض سرطان کے مطابق کینسر کی تشخیص کے بعد بھی اکثر مریضوں کو ادویات کا انتظام کرنے اور علاج مکمل کرانے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مریضوں کی صحت یابی کے امکانات بہتر بنانے کے لیے کینسر کی ادویات کی بلند قیمتوں، ان کی دستیابی کے مسائل اور غیر ضروری دفتری رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بریسٹ کینسر سے آگہی کے مہینے کی مناسبت سے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ بریسٹ کون 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں محدود طبی سہولتوں اور مالی وسائل رکھنے والے ممالک میں بریسٹ کینسر کے علاج کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
جے پی ایم سی میں سائبر نائف اور ٹوموتھراپی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود نے کہا کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی سرجری کے لیے قابل اور تربیت یافتہ سرجن موجود ہیں، تاہم مہنگی ادویات اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ مریضوں کو کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اور ضروری ٹیسٹ کرانے میں بھی مشکلات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ کینسر کی بعض ادویات بھارت اور دیگر ممالک میں کم قیمت پر دستیاب ہیں لیکن پاکستان میں زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ادویہ ساز کمپنیوں سے رابطہ کرکے درخواست کر چکے ہیں کہ یہ ادویات پاکستانی مریضوں کو مناسب قیمت پر فراہم کی جائیں۔
پروفیسر طارق محمود نے کہا کہ سرکاری قواعد اور دفتری رکاوٹیں بھی معیاری ادویات کی مناسب قیمت پر دستیابی میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ متعلقہ اداروں کو غیر ضروری رکاوٹیں دور کرکے ادویہ ساز کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنی چاہیے تاکہ مریضوں کو سستی ادویات مل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمپنیاں پہلے ہی مختلف ممالک کو ادویات برآمد کر رہی ہیں اور مقامی سطح پر بھی معیاری ادویات کم قیمت پر تیار کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ امیونوتھراپی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان مریضوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں جو پہلے ہی علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جے پی ایم سی میں بریسٹ کینسر کی سرجری اور کیموتھراپی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ متعدد ادویات اسپتال کے بجٹ اور مختلف اداروں کے تعاون سے فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم بعض مہنگی ادویات کے لیے مریضوں کو دیگر ذرائع سے مالی معاونت حاصل کرنا پڑتی ہے۔
پروفیسر طارق محمود نے کہا کہ جے پی ایم سی میں بریسٹ کینسر کی نئی ریڈیوتھراپی سہولت میں روزانہ 160 مریضوں کے علاج کی گنجائش ہوگی، جس سے اسپتال میں ریڈیوتھراپی کی مجموعی گنجائش تقریباً 400 مریض روزانہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت مفت ہوگی اور ڈاکٹر ایسے مریضوں کو جناح اسپتال بھیجیں جو نجی علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
ڈاکٹر طارق محمود نے کہا کہ جدید تکنیک سے دل کو غیر ضروری شعاعوں سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ ابتدائی مرحلے کے بریسٹ کینسر کے بعض منتخب مریضوں کو سرجری کے بعد ایک ہفتے میں ریڈیوتھراپی کے پانچ سیشن دیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز کی کینسر کے علاج کی سہولتوں سے 24 ممالک اور پاکستان کے 183 شہروں کے مریض مستفید ہو چکے ہیں۔
کانفرنس کی منتظم، جے پی ایم سی کی ڈاکٹر سیدہ زریں رضا نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ محدود وسائل میں علاج کے طے شدہ طبی رہنما اصولوں پر کیسے عمل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ جے پی ایم سی کے پلیٹ فارم سے یہ مسلسل چوتھی کانفرنس ہے، جس کا مقصد سرجنز، ماہرین سرطان اور دیگر ڈاکٹروں کو یکجا کرکے علاج بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے پی ایم سی میں مختلف شعبوں کے ماہرین کے باقاعدہ مشترکہ اجلاس، مریضوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے اور بریسٹ کلینک کو بہتر بنانے سمیت مختلف اقدامات پر کام جاری ہے۔ کانفرنس میں پیش کی جانے والی تحقیق اور گفتگو سے ڈاکٹروں کو مریضوں کے مسائل کے عملی حل تلاش کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔
جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر خالد شیر نے کہا کہ جدید علاج ان مریضوں کو بھی دستیاب ہونا چاہیے جو اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ مالی مشکلات کا شکار افراد کو بھی علاج میں ہونے والی پیش رفت سے فائدہ ملنا چاہیے اور دستیاب وسائل زیادہ سے زیادہ مریضوں کی مدد کے لیے استعمال کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جانیں بچانے کے لیے آگہی، مناسب اسکریننگ اور بروقت تشخیص ضروری ہیں۔ سرجنز، ماہرین سرطان، ریڈیولوجسٹس، پیتھالوجسٹس، نرسز اور دیگر طبی عملے کو مل کر ہر مریض کے لیے موزوں علاج کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
لیاقت نیشنل اسپتال کی بریسٹ سرجن پروفیسر ڈاکٹر روفینہ سومرو نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنا معائنہ کرائیں اور بروقت طبی مشورہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ علاج کے اخراجات کا انحصار بیماری اور درکار ادویات پر ہوتا ہے جبکہ جلد تشخیص سے پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فارمیوو کے نمائندے ثاقب فاروقی نے کہا کہ کمپنی نے کینسر کے علاج کے لیے جدید ادویات متعارف کرائی ہیں، جن میں پیمبرولیزومیب اور دیگر مونوکلونل اینٹی باڈیز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد علاج کے نتائج بہتر بنانا اور کینسر کے مریضوں کا معیار زندگی بہتر کرنا ہے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق سرطان کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران بریسٹ کینسر کے اندازاً 43 ہزار 721 نئے کیسز اور اس بیماری سے 20 ہزار 39 اموات ہوئیں۔ خواتین میں سرطان کے نئے کیسز میں بریسٹ کینسر کا حصہ 44 فیصد تھا۔
پہلے روز کے پروگرام میں دیگر مقررین میں ضیاء الدین اسپتال کے ڈاکٹر ایم نعمان ظہیر، برطانیہ کے یونیورسٹی ہاسپٹلز آف نارتھ مڈلینڈز این ایچ ایس ٹرسٹ کی ڈاکٹر صدف جعفر بھائی اور ایس آئی یو ٹی کی ڈاکٹر سحرش ابرار سمیت دیگر ماہرین شامل تھے۔