محمد وقار بھٹی
تھرپارکر کے بچوں نے بھی عجیب حرکت کی ہے۔ ایم ڈی کیٹ میں اچھے نمبر لے آئے، وہ بھی یہ معلوم کیے بغیر کہ اچھے نمبروں پر پہلا حق کس شہر کا ہے۔ کم از کم نتیجہ آنے سے پہلے اجازت تو لے لیتے کہ حضور، ہم بھی پہلے بیس میں آسکتے ہیں؟
کچھ لوگوں کے اعتراضات سن کر معلوم ہوتا ہے کہ امتحان میں اصل غلطی بچوں کے جوابات میں نہیں، ان کے پتے میں تھی۔ نمبر تو ٹھیک ہیں، مگر ضلع ٹھیک نہیں۔ یہی نمبر کسی پسندیدہ پتے کے ساتھ ہوتے تو شاید قابلیت کی مثال بنتے، تھرپارکر کے ساتھ آئے تو تحقیقات کا موضوع بن گئے۔
ہم بھی کتنے فراخ دل لوگ ہیں۔ دور دراز علاقوں کے بچوں کو تعلیم دینے کی حمایت کرتے ہیں، ان کے لیے اسکول مانگتے ہیں، ان کی محرومیوں پر افسوس کرتے ہیں۔ البتہ وہ پڑھ لکھ کر ہمارے بچوں سے آگے نکل جائیں تو معاملہ کچھ زیادہ ہی آگے نکل جاتا ہے۔
اسی بحث کے دوران ایک دلچسپ معاملہ سامنے آیا۔ سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف احمد شیخ کی صاحبزادی بے نظیر آصف شیخ، جو کراچی میں پڑھی ہیں، فراہم کردہ عبوری نتیجے کی فہرست میں سیریل نمبر 2411 پر درج ہیں۔ ضلع کراچی ساؤتھ ہے اور حاصل کردہ نمبر 180 میں سے 157-
اب اُن حضرات کو کچھ زحمت ہوگی جو ہر نتیجے کی پوری وضاحت صرف وائس چانسلر کے نام سے کردیا کرتے تھے۔ یہاں والد کا عہدہ بھی موجود ہے، کراچی کا پتہ بھی، مگر فہرست نے نام کے آگے وہی نمبر لکھے ہیں جو دکھائے گئے ہیں۔ والد کے عہدے کے لیے اضافی نمبروں کا کوئی خانہ نظر نہیں آتا۔
ویسے 157 نمبر بھی اچھے خاصے نمبر ہیں۔ اس طالبہ کی محنت کو چھوٹا دکھانا بھی اتنا ہی نامناسب ہوگا جتنا تھر کے کسی بچے کی کامیابی کو صرف اس کے ضلع کی وجہ سے مشکوک کہنا۔ امتحان بچے دیتے ہیں؛ ان کے والدین کے عہدے اور شہروں کی شہرت کو الگ بیٹھنا چاہیے۔
یقیناً ایک طالبہ کا نتیجہ پورے امتحان کی شفافیت کا قطعی سرٹیفکیٹ نہیں۔ امتحان کے انتظام، پرچے یا جانچ پر اعتراض ہے تو اسے دیکھا جانا چاہیے۔ لیکن کسی امیدوار کا تھرپارکر سے ہونا بھی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں۔ ثبوت کی جگہ نقشہ رکھ دینے سے تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں۔
پرچے میں غلط سوال تھا تو بتائیے۔ آنسر کی میں غلطی تھی تو دکھائیے۔ کسی امیدوار کو ناجائز فائدہ ملا تو شواہد سامنے لائیے۔ یہ سب ضروری سوال ہیں۔ البتہ ’’یہ بچہ وہاں سے آکر اتنے نمبر کیسے لے آیا؟‘‘ میں بچے سے زیادہ سوال پوچھنے والے کا مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔
کراچی کے بچوں کی محنت اپنی جگہ قابلِ احترام ہے۔ تھر، بدین، شکارپور یا کسی اور ضلع کے بچے کی محنت بھی اتنی ہی قابلِ احترام ہونی چاہیے۔ ایک کی تعریف کے لیے دوسرے کا حق چھیننا ضروری نہیں۔ مقابلے کا مقصد اچھے جواب تلاش کرنا ہے، پسندیدہ پتے نہیں۔
اگلے امتحان سے پہلے بچوں کو بس اتنا بتادینا چاہیے کہ تیاری کتابوں سے کریں، کسی بڑے نام کے سائے میں بیٹھنے سے جواب یاد نہیں ہوتے۔ اور بڑوں کے لیے بھی ایک چھوٹا سا سبق رکھا جائے۔
بچے بائیالوجی پڑھ رہے تھے۔ کچھ بڑے ابھی تک جغرافیے میں اٹکے ہوئے ہیں۔