کراچی: سندھ میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کے باعث سگ گزیدگی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کتے کے کاٹنے سے ہونے والی مہلک بیماری ریبیز کے باعث رواں سال اب تک 35 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ کراچی کے چار بڑے سرکاری اسپتالوں میں رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران 40 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے کیسز کی تعداد دو لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے۔
سرکاری اسپتالوں کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے نو ماہ کے دوران انڈس اسپتال کراچی میں 14 ہزار، جناح اسپتال کراچی میں 10 ہزار، سول اسپتال میں 10 ہزار جبکہ شہر کے باقی اسپتالوں میں 7 ہزار سے زائد کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
سرکاری اسپتالوں کے اعداد و شمار کے مطابق انڈس اسپتال کراچی میں 26، انڈس اسپتال بدین میں ایک جبکہ جناح اسپتال کراچی میں 8 افراد ریبیز کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔
یہ صورتحال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سگ گزیدگی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم مختلف اداروں میں رپورٹنگ اور ریکارڈ رکھنے کے طریقہ کار میں فرق کے باعث ان اعداد و شمار کو سندھ میں سگ گزیدگی کے مکمل دباؤ کا حتمی تخمینہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ملک کے تین صوبوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 میں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 6 لاکھ 15 ہزار 663 سے زائد کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سندھ میں 2 لاکھ 85 ہزار سے زائد، پنجاب میں 2 لاکھ 43 ہزار 299 جبکہ خیبر پختونخوا میں 87 ہزار 364 کیسز رپورٹ ہوئے۔
ماہرین صحت کے مطابق ملک میں سگ گزیدگی کے اصل واقعات اس سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں کیونکہ متعدد کیسز رپورٹ نہیں ہوتے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں نگرانی، رپورٹنگ اور ریکارڈ رکھنے کا نظام یکساں نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز کی روک تھام کی حکمت عملی صرف آوارہ کتوں کی تعداد کم کرنے یا اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہر کتے کے کاٹنے کے واقعے کی بروقت رپورٹنگ، متاثرہ شخص کا فوری طبی معائنہ، مناسب علاج، ویکسینیشن کا مکمل کورس اور مریض کا فالو اَپ ایک مربوط نظام کے تحت ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق کتوں کے کاٹنے کی بنیادی وجوہات، جن میں جانوروں سے متعلق عوامل کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور شہری انتظام کے مسائل بھی شامل ہیں، پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ مسئلے کا تدارک صرف واقعے کے بعد علاج تک محدود نہ رہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سندھ میں کتوں کی بڑھتی تعداد انسانی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے اور کتوں کی آبادی کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیے بغیر ریبیز پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ ان کے مطابق کتوں کی نس بندی کا منصوبہ بھی مطلوبہ مؤثریت سے آگے نہیں بڑھ سکا، اس لیے صحت، بلدیاتی، ویٹرنری اور مقامی حکومت کے اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو کتا کاٹ لے تو زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک اچھی طرح دھونا چاہیے اور بلا تاخیر قریبی طبی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اینٹی ریبیز ویکسین اور ضرورت پڑنے پر ریبیز امیونوگلوبلن (RIG) بھی بروقت لگوانا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بیماری انتہائی مہلک ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد مناسب طبی امداد اور پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسی (PEP) کا مکمل کورس انتہائی اہم ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ ریبیز سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سگ گزیدگی کی مؤثر نگرانی، آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے اقدامات اور صحت و بلدیاتی اداروں کے درمیان مربوط نظام قائم کرنا ہوگا۔