پاکستان میں تین کروڑ افراد گردوں کے امراض میں مبتلا، سالانہ 30 ہزار سے زائد اموات

لاہور: ماہرین امراض گردہ نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس، بلند فشار خون، گردوں کی پتھری، جینیاتی بیماریاں، ازخود دوائیں کھانے اور ادویات کے غیرضروری استعمال کے باعث پاکستان میں گردوں کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ملک کی تقریباً 12 فیصد آبادی یعنی لگ بھگ تین کروڑ افراد گردوں کی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں سالانہ 30 ہزار سے زائد افراد گردوں کے امراض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوسکتی ہے کیونکہ گردوں کی بیماری طویل عرصے تک بغیر کسی واضح علامت کے بڑھتی رہتی ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو اس وقت تک اپنی بیماری کا علم نہیں ہوتا جب تک گردوں کو خاصا نقصان نہیں پہنچ چکا ہوتا۔

پاکستان سوسائٹی آف نیفرولوجی کے نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر علی ثقلین حیدر نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً تین کروڑ افراد گردوں کی کسی نہ کسی بیماری سے متاثر ہیں جبکہ سالانہ 30 ہزار سے زائد اموات بھی گردوں کے امراض سے منسوب کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذیابیطس اور بلند فشار خون پاکستان میں گردوں کی بیماری کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں جبکہ گردوں کی اندرونی بیماریاں، پتھری اور بعض جینیاتی بیماریاں بھی گردے ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔

پروفیسر علی ثقلین حیدر نے خاص طور پر ازخود دوائیں لینے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوگ معمولی بیماریوں اور درد کی صورت میں بھی ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر ادویات استعمال کرتے ہیں جبکہ غیرضروری اور مسلسل ادویات کا استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گردوں کے امراض کے علاج سے زیادہ توجہ ان سے بچاؤ اور بروقت تشخیص پر دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ابتدائی مرحلے میں مرض سامنے آجائے تو بروقت علاج کے ذریعے بیماری کی رفتار کو کم کیا جاسکتا ہے اور مریض کو گردے ناکارہ ہونے اور ڈائیلاسس تک پہنچنے سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر پر قابو رکھنے کے ساتھ بروقت اسکریننگ انتہائی اہم ہے۔ پیشاب کے مکمل ٹیسٹ، خون میں یوریا اور کریٹینین سمیت بنیادی ٹیسٹ گردوں کی خرابی کی ابتدائی نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے الٹراساؤنڈ بھی کرایا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خصوصاً ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، گردوں کے امراض کی فیملی ہسٹری یا دیگر خطرے کے عوامل رکھنے والے افراد کو باقاعدگی سے گردوں کی جانچ کرانی چاہیے کیونکہ ابتدائی مراحل میں بیماری کی کوئی نمایاں علامات نہ ہونے کے باوجود گردوں کو مسلسل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بیماری آخری مراحل تک پہنچنے کے بعد مریض کو مسلسل ڈائیلاسس یا گردے کی پیوندکاری کی ضرورت پڑسکتی ہے، جو نہ صرف مہنگا اور پیچیدہ علاج ہے بلکہ ملک کے کئی حصوں میں اس تک رسائی بھی محدود ہے۔

پاکستان سوسائٹی آف نیفرولوجی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر عامر اظہر نے گردوں کے امراض کو ایک بڑھتا ہوا “خاموش مسئلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں مریض اس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب بیماری آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گردوں کے امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے عوامی آگاہی، خطرے سے دوچار افراد کی اسکریننگ اور طبی ماہرین کی تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

اس موقع پر پاکستان سوسائٹی آف نیفرولوجی اور فارمیوو کے درمیان نوجوان نیفرولوجسٹس اور ٹرینیز کی علمی اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے نیفرولوجی گرینڈ راؤنڈز کے انعقاد کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان سوسائٹی آف نیفرولوجی کے سیکریٹری ڈاکٹر احمد زیب خان نے کہا کہ گرینڈ راؤنڈز کے ذریعے نوجوان ماہرین اور ٹرینیز کو پیچیدہ کیسز پر تجربہ کار نیفرولوجسٹس کے ساتھ تبادلہ خیال اور جدید تشخیصی و علاج کی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس تربیت سے نوجوان ڈاکٹروں کی تشخیصی اور علاج کی صلاحیت بہتر ہوگی، جس کا براہ راست فائدہ گردوں کے مریضوں کو بہتر اور بروقت علاج کی صورت میں پہنچے گا۔

فارمیوو کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ثمر اقبال جعفری نے کہا کہ پاکستان سوسائٹی آف نیفرولوجی کے ساتھ اس اقدام کا مقصد طبی تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دینا اور نوجوان ڈاکٹروں کو ماہرین سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں