کراچی: سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز اور ولیکا اسپتال سے منسلک متاثرہ خاندانوں کی مبینہ مالی مشکلات کا معاملہ منگل کو عدالت میں شدت اختیار کرگیا، جہاں متاثرین اور ان کے وکیل کی جانب سے احتجاج اور شور شرابے کے بعد ججز کمرہ عدالت سے اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے۔
ذوالفقار جونیئر نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں 12 فیصد بچے ہیں جبکہ ولیکا اسپتال میں بھی بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے کیسز سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ متاثرہ بچوں اور ان کے اہلخانہ سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کیلئے آئے ہیں اور ان خاندانوں کے ساتھ آخری دم تک کھڑے رہیں گے۔
ذوالفقار جونیئر کے مطابق 2008 سے 2019 کے دوران لاڑکانہ میں تقریباً ایک ہزار بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تھے جبکہ رواں سال مزید 72 بچوں کے متاثر ہونے کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لانڈھی اسپتال سے بھی بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے صحت کے نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معمولی بیماریوں کے علاج کیلئے اسپتال جانے والے بچوں کا ایچ آئی وی سے متاثر ہونا انتہائی تشویشناک ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا، “یہ کیسا ملک ہے جو ایران اور امریکا کو ٹیبل پر لا سکتا ہے مگر اپنے ملک میں سرنج تک نہیں دے سکتا۔”
ذوالفقار جونیئر نے مزید کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بعض بچوں کو اسکولوں سے نکالے جانے کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں، جو ان بچوں اور ان کے خاندانوں کیلئے بیماری کے ساتھ سماجی امتیاز کا ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔
عدالت میں موجود ایک متاثرہ بچے کے والد نے اپنی مالی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خاندان بچوں کے علاج کیلئے سود پر قرض لینے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا، “ہم نے بچوں کے علاج کیلئے اپنی چارپائیاں تک فروخت کردی ہیں لیکن ہمیں ایک روپے تک کی امداد نہیں ملی۔”
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل طارق منصور اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے شدید احتجاج اور چیخ و پکار کے باعث کمرہ عدالت میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
طارق منصور نے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “یہ لوگ کل کو خودکشی کرلیں گے، آپ اللہ کو کیا جواب دیں گے؟”
کمرہ عدالت میں شور شرابے کے دوران ججز بینچ سے اٹھ کر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔
متاثرہ خاندانوں کا مؤقف ہے کہ انہیں اپنے بچوں کے علاج، مالی معاونت اور سماجی تحفظ کیلئے فوری حکومتی مدد درکار ہے۔ تاہم ان کی جانب سے اسپتالوں میں ایچ آئی وی منتقلی، مالی امداد نہ ملنے اور متاثرہ بچوں کو اسکولوں سے نکالنے سے متعلق الزامات پر متعلقہ حکام کا مؤقف فوری طور پر دستیاب نہیں ہوسکا۔