ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد ساڑھے سات ہزار تک پہنچ گئی، پاکستان نے غذائی معاونت کے لیے عالمی اداروں سے رجوع کر لیا

اسلام آباد: پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 7,500 تک پہنچ گئی ہے، جو ملک بھر میں علاج حاصل کرنے والے تقریباً 62 ہزار ایچ آئی وی مریضوں کا لگ بھگ 12.1 فیصد بنتی ہے۔ ان بچوں کی جانیں بچانے، غذائی قلت پر قابو پانے اور علاج کے بہتر نتائج کے لیے وفاقی حکومت نے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں سے خصوصی غذائی معاونت طلب کر لی ہے۔

وزارتِ قومی صحت کے حکام کے مطابق حکومت نے یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام، نیوٹریشن انٹرنیشنل اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے رابطہ کیا ہے تاکہ ملک بھر کے 99 ایچ آئی وی علاج مراکز میں زیر علاج بچوں کے لیے غذائی معاونت فراہم کی جا سکے۔

حکام کے مطابق ان بچوں کو ریڈی ٹو یوز تھیراپیوٹک فوڈ (RUTF)، مائیکرونیوٹرینٹس اور دیگر غذائی سپلیمنٹس فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے کیونکہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے، جس کے باعث بیماریوں، جسمانی کمزوری اور علاج سے متعلق پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ ایچ آئی وی علاج مراکز میں رجسٹرڈ بچوں کو ادویات کے ساتھ خصوصی غذائی معاونت بھی فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت اور علاج کے نتائج بہتر بنائے جا سکیں۔

حکام کے مطابق مجوزہ پروگرام کے تحت بچوں کی غذائی حالت کا جائزہ لیا جائے گا، غذائی قلت کی اسکریننگ کی جائے گی، ضرورت کے مطابق علاجی خوراک اور سپلیمنٹس فراہم کیے جائیں گے، جبکہ والدین اور تیمارداروں کو غذائیت سے متعلق مشاورت بھی دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ غذائی معاونت ہر بچے کی عمر، وزن، طبی حالت اور غذائی قلت کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے فراہم کی جائے گی، جبکہ شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کو خصوصی علاجی خوراک، قریبی طبی نگرانی اور باقاعدہ فالو اپ بھی دیا جائے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے تقریباً 7,500 بچوں میں سے لگ بھگ 4,200 کا تعلق سندھ سے ہے، جو پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے بحران کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔

حکام کے مطابق سندھ میں 2026 کے دوران ہر ماہ اوسطاً تقریباً 120 نئے بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو رہی ہے۔ پنجاب دوسرے، خیبر پختونخوا تیسرے اور بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے، جبکہ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو عام بچوں کے مقابلے میں 10 سے 20 فیصد زیادہ کیلوریز اور پروٹین درکار ہوتے ہیں، جبکہ بار بار انفیکشن، اسہال، وزن میں کمی یا دیگر پیچیدگیوں کی صورت میں ان کی غذائی ضروریات مزید بڑھ جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی ریٹرووائرل ادویات لینے والے ایسے بچوں کو جنہیں متلی یا قے کی شکایت ہو، دن میں تین بڑے کھانوں کے بجائے وقفے وقفے سے کم مقدار میں خوراک دی جانی چاہیے تاکہ وہ مناسب غذا بھی حاصل کر سکیں اور علاج بھی جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں میں اکثر وائرس سے زیادہ بڑا مسئلہ غذائی قلت ہوتی ہے۔ اگرچہ ادویات وائرس کو قابو میں لے آتی ہیں، لیکن غذائی کمی برقرار رہے تو بچوں میں مختلف طبی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

حکام کے مطابق شدید غذائی قلت، خون کی کمی اور وٹامنز و معدنیات کی کمی کا شکار بچوں میں صرف اینٹی ریٹرووائرل ادویات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں۔ غذائی قلت قوت مدافعت کو کمزور کرتی ہے، موقع پرست انفیکشنز کا خطرہ بڑھاتی ہے اور علاج کے مؤثر ہونے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں میں بھوک کی کمی، غذائی اجزا کے جذب میں مشکلات، بار بار اسہال اور انفیکشنز کے باعث غذائی ضروریات مزید بڑھ جاتی ہیں، جس سے وزن میں کمی کا ایک خطرناک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جہاں ایچ آئی وی غذائی قلت کو بڑھاتا ہے اور غذائی قلت بیماری کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے حکام کے مطابق متوازن غذا، مناسب کیلوریز، پروٹین، وٹامنز اور معدنیات ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی نشوونما، قوت مدافعت اور علاج کے بہتر نتائج کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ صوبائی حکومتوں اور اسپتالوں کے لیے غذائی جائزے، مشاورت اور ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی غذائی دیکھ بھال سے متعلق تربیت، ہدایات اور رہنما اصول بھی جاری کر رہا ہے، جبکہ والدین کو مقامی سطح پر دستیاب غذائیت سے بھرپور خوراک اور غذائی قلت کی ابتدائی علامات سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق مختلف عالمی ادارے اپنی جغرافیائی حدود اور پروگراموں کے مطابق مختلف صوبوں اور علاقوں میں کام کریں گے اور کامن مینجمنٹ یونٹس کے ذریعے غذائی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس سلسلے میں کوریج، غذائی اشیا، فراہمی کے طریقہ کار اور نگرانی کے نظام کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت جاری ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں