سندھ میں ایچ آئی وی کا تشویشناک پھیلاؤ، ولیکا کے بعد سوشل سیکیورٹی لانڈھی اسپتال سے بھی 15 بچوں میں وائرس کی تصدیق

کراچی: سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ ولیکا اسپتال کے بعد اب سوشل سیکیورٹی لانڈھی اسپتال میں بھی متعدد بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران سوشل سیکیورٹی لانڈھی اسپتال میں علاج کرانے والے چار ماہ سے آٹھ سال عمر کے 15 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ ان بچوں کا علاج اسی اسپتال میں کیا گیا تھا۔
دستاویزات کے مطابق جنوری میں 4، فروری میں 2، مارچ میں ایک، اپریل میں 5 اور مئی میں 3 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

سوشل سیکورٹی اسپتال لانڈھی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ ہونے کی شرط پر بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نے معاملے کو منظرعام پر نہیں آنے دیا، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ بچوں کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ بچوں کے والدین نے سماجی بدنامی اور امتیازی سلوک کے خوف سے میڈیا کے سامنے آنے سے انکار کر دیا۔
یاد رہے کہ کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے باعث اب تک 100 بچے وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ 9 بچوں کے انتقال کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس واقعے کے بعد انفیکشن کنٹرول اور طبی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔
سوشل سیکیورٹی لانڈھی اسپتال سے متاثرہ بچوں کے والدین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ولیکا اسپتال کے متاثرین کی طرز پر ان کے بچوں کے علاج کے لیے بھی اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ایچ آئی وی جیسے مہنگے اور طویل علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے حکومت ان بچوں کے علاج کی مکمل ذمہ داری سنبھالے۔
متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں اسپتالوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متاثرہ بچوں کو زندگی بھر مفت علاج، ادویات اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں