غیر ضروری سی سیکشن ماؤں کی اموات بڑھا رہے ہیں، قانون سازی کریں گے: ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو

کراچی: سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ صوبے میں غیر ضروری سی سیکشن آپریشنز ماں کی اموات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن رہے ہیں، جس کے تدارک کے لیے حکومت قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے سی سیکشن کے بعد ٹیوبل لائیگیشن سے متعلق پالیسی پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ بار بار حمل اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔


یہ بات انہوں نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں منعقدہ چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ "ماں رہے سلامت” کے عنوان سے ہونے والی اس سمٹ کا موضوع "نوجوان، خاندانی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل جدت” ہے، جس میں ماہرین، محققین اور پالیسی ساز زچگی کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور بڑھتی آبادی کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔


ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سندھ حکومت ملک میں خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کی صحت کے حوالے سے کئی اہم قوانین نافذ کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں 18 سال سے کم عمر کی شادی کو قانوناً ممنوع قرار دیا گیا، کیونکہ کم عمری میں شادی اور بار بار حمل خواتین اور بچیوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔


انہوں نے کہا کہ زچگی کے دوران اموات کی ایک اہم وجہ حمل کے دوران غذائی قلت اور مناسب خوراک کی کمی بھی ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی محفوظ زچگی کے لیے صرف ہسپتالوں پر انحصار کرنے کے بجائے کمیونٹی مڈوائفز کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ ہر ڈسپنسری میں تین کمیونٹی مڈوائفز تعینات کی جائیں گی تاکہ نارمل ڈلیوری مقامی سطح پر محفوظ انداز میں کرائی جا سکے۔


وزیر صحت نے بتایا کہ اس وقت لیڈی ہیلتھ ورکرز صوبے کے تقریباً 40 سے 50 فیصد علاقوں تک خدمات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ حکومت اس کوریج کو بڑھا کر 60 سے 70 فیصد تک لے جانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں حاملہ خواتین کو بروقت طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت بہتر بنانے اور برتھ اسٹیشن سینٹرز قائم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔


ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے عوام پر زور دیا کہ خواتین کی صحت کو ترجیح دیں اور خاندانی منصوبہ بندی کو اپنائیں تاکہ ماؤں اور بچوں کی صحت بہتر بنائی جا سکے اور زچگی کے دوران اموات میں کمی لائی جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں