ایک اور نوجوان کانگو وائرس کا شکار

راچی: کراچی میں کانگو ہیمرجک فیور (CCHF) کا ایک اور کیس سامنے آگیا۔ جناح اسپتال انتظامیہ کے مطابق کوئٹہ کے رہائشی 22 سالہ رحمت اللہ کو تشویشناک حالت میں کراچی منتقل کیا گیا، جہاں لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد ان میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریض کو تیز بخار اور ناک سے خون آنے کی علامات کے ساتھ جناح اسپتال لایا گیا۔ طبی معائنے میں مریض کے پلیٹ لیٹس اور ہیموگلوبن کی سطح انتہائی کم جبکہ جگر کے انزائمز خطرناک حد تک بلند پائے گئے۔ بعد ازاں پی سی آر رپورٹ مثبت آنے پر کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

حکام کے مطابق کانگو وائرس کی تصدیق کے بعد مریض کو مزید علاج اور آئسولیشن کے لیے سندھ انفیکشیس ڈیزیز اسپتال (SIDH) منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس کی خصوصی نگہداشت جاری ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کراچی میں کانگو ہیمرجک فیور سے متاثرہ ٹنڈو محمد خان کے رہائشی 17 سالہ نوجوان کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ سال سندھ میں کانگو وائرس کے باعث مجموعی طور پر 6 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں 5 اموات کراچی جبکہ ایک ہلاکت ضلع ٹھٹہ سے رپورٹ ہوئی تھی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس عموماً مویشیوں یا دیگر جانوروں میں پائے جانے والے چیچڑ (ٹِکس) کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ متاثرہ جانوروں کے خون یا جسمانی رطوبت سے رابطہ بھی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ مویشیوں کو ہاتھ لگاتے وقت دستانے استعمال کریں، صفائی کا خاص خیال رکھیں اور بخار، جسم میں درد یا خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔

صحت حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ اس وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں