کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں 10 سالہ بچے کی آپریشن سے قبل ہلاکت کے معاملے کی انکوائری میں مبینہ تاخیر اور بے ضابطگیوں پر شعبہ ای این ٹی کی سربراہ نے وزیر صحت سندھ کو شکایتی خط ارسال کرتے ہوئے فوری تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شکایتی خط کے مطابق دسمبر 2025 میں ایک 10 سالہ بچہ آپریشن شروع ہونے سے قبل ہی آپریشن تھیٹر میں دم توڑ گیا۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت بے ہوشی کے عمل کے دوران آپریشن تھیٹر میں کوئی سینئر اینستھیٹسٹ موجود نہیں تھا، جسے سنگین غفلت قرار دیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد انتظامیہ کو پانچ مرتبہ تحریری طور پر آگاہ کیا گیا، تاہم کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں 10 جون کو تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی، لیکن ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انکوائری میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
شعبہ ای این ٹی کی سربراہ نے اپنے خط میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلیمان پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ انکوائری کو تاخیر کا شکار بنانے اور واقعے میں مبینہ طور پر ملوث جونیئر اینستھیٹسٹ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خط کے مطابق تاحال متعلقہ جونیئر اینستھیٹسٹ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئی، جبکہ جاں بحق بچے کی والدہ، جو اس کیس کی اہم شکایت کنندہ اور گواہ ہیں، انہیں بھی کمیٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔
شکایت میں تحقیقاتی کمیٹی کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے وزیر صحت سندھ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انکوائری کو غیر جانبدار انداز میں مکمل کرایا جائے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔